سردیوں میں گرم کھانوں سے بجلی بچائیں: وہ راز جو آپ کا بل آدھا کر دیں

webmaster

겨울철 따뜻한 요리로 에너지 절약하기 - **Prompt:** A cozy and vibrant scene inside a Pakistani home during a winter evening. A family (moth...

سردیوں کی ٹھنڈی راتیں، ایک گرم چائے کا کپ اور مزیدار کھانا – یہ سب کتنا سکون دیتا ہے نا؟ لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ یہی موسم آپ کے بجلی اور گیس کے بلوں پر کتنا اثر ڈالتا ہے؟ مجھے یاد ہے، پچھلے سال جب سردی اپنے عروج پر تھی، تو میرے گھر کا بل دیکھ کر میں خود حیران رہ گئی تھی۔ مہنگائی کا یہ دور ہے اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے اخراجات کم کرے۔ خاص طور پر جب بات گھر کی ہو اور موسم سرما کی ہو، تو توانائی کی بچت ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ایک بلاگر اور گھر کو سنبھالنے والی خاتون ہونے کے ناطے، میں ہمیشہ یہ کوشش کرتی ہوں کہ اپنے قارئین کے لیے ایسے طریقے لے کر آؤں جو ان کی زندگی کو آسان اور کم خرچ بنا سکیں۔ اور یقین کریں، سردیوں میں گرم کھانے صرف ذائقہ ہی نہیں دیتے بلکہ اگر انہیں تھوڑی سی عقل مندی سے بنایا جائے تو وہ توانائی کی بچت میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں جہاں ماحولیاتی تبدیلیاں اور توانائی کا عالمی بحران ایک حقیقت بن چکا ہے، ہمیں اپنے کچن سے ہی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ پکوان ایسے ہیں جو کم وقت اور کم ایندھن میں بنتے ہیں لیکن آپ کو دیر تک گرم رکھتے ہیں؟ ہم صرف اپنے گھر کو گرم رکھنے کے لیے ہی نہیں بلکہ ماحول دوست بننے کے لیے بھی یہ چھوٹے قدم اٹھا سکتے ہیں۔تو چلیں، میں آج آپ کو ایسے ہی کچھ شاندار ٹپس اور پکوان کے بارے میں بتاتی ہوں جو آپ کو سردیوں میں گرم بھی رکھیں گے اور آپ کے بلوں کو بھی ہلکا پھلکا رکھیں گے۔ آئیے، آج ہم انہی دلچسپ اور مفید طریقوں کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں، جن سے سردیوں میں آپ کا گھر اور آپ کی جیب دونوں ہی پرسکون رہیں۔

سردیوں میں گرما گرم کھانے، بجٹ پر بھی بھاری نہیں!

겨울철 따뜻한 요리로 에너지 절약하기 - **Prompt:** A cozy and vibrant scene inside a Pakistani home during a winter evening. A family (moth...

ایک برتن کے کمالات: دیسی ہانڈی کے فوائد

سردیوں کی شاموں میں جب ٹھنڈ بڑھنے لگتی ہے، دل کرتا ہے کہ کوئی گرما گرم، لذیذ اور بھرپور کھانا ہو جو روح کو بھی گرمی بخشے۔ اور یقین کریں، ایسے کھانے بجٹ پر بھی بوجھ نہیں بنتے اگر ہم تھوڑی سی سمجھداری سے کام لیں۔ مجھے یاد ہے، جب میں نئی نئی شادی ہوئی تھی تو امی ہمیشہ یہی کہتی تھیں کہ “بیٹا، سردیوں میں ایک دیگچی والے کھانے زیادہ بنایا کرو۔” اس وقت مجھے ان کی بات کی اتنی گہرائی سمجھ نہیں آتی تھی، لیکن اب سمجھ آتی ہے۔ دیسی ہانڈی یا ایک ہی برتن میں پکنے والے کھانے جیسے دال چاول، کھچڑی، سبزی والا پلاؤ یا کوئی بھی سٹو، نہ صرف مزیدار ہوتے ہیں بلکہ یہ گیس اور بجلی دونوں کی بچت کرتے ہیں۔ مجھے تو ذاتی طور پر سردیوں میں مکس سبزی کا سٹو یا پھر مونگ مسور کی دال چاول بہت پسند ہیں، اور انہیں بنانے میں وقت بھی کم لگتا ہے اور برتن بھی کم استعمال ہوتے ہیں۔ اس سے کچن کی صفائی بھی آسان ہو جاتی ہے اور توانائی بھی بچ جاتی ہے۔ آپ بھی ان کو اپنا کر دیکھیں، آپ کو خود فرق محسوس ہوگا۔

پریشر کوکر کی طاقت: وقت اور گیس کی بچت

آج کل کی مصروف زندگی میں، خاص طور پر سردیوں میں، ہر کوئی چاہتا ہے کہ کھانا جلدی سے تیار ہو جائے اور گھر بھی گرم رہے۔ پریشر کوکر تو جیسے ایک خدا کا تحفہ ہے!

مجھے یاد ہے پچھلے سال میرے بھائی کا ایک دوست آیا ہوا تھا، اس نے پریشر کوکر میں حلیم بنانا شروع کیا، میں حیران رہ گئی کہ جو حلیم گھنٹوں میں بنتا ہے، اس نے آدھے وقت میں بنا دیا۔ یہ صرف وقت ہی نہیں بچاتا بلکہ گیس بھی بہت کم استعمال ہوتی ہے۔ آپ یخنی، گوشت، دالیں یا چنے جیسی چیزیں پریشر کوکر میں بنائیں، یقین کریں آپ کی آدھی گیس بچ جائے گی۔ خاص طور پر جب صبح سویرے بچوں کے لیے سکول کا کھانا تیار کرنا ہو یا رات کو جلدی سے ڈنر بنانا ہو، تو پریشر کوکر سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ میں نے خود تجربہ کیا ہے کہ چنے بوائل کرنے میں پریشر کوکر سے آدھی گیس لگتی ہے، بنسبت کھلے برتن کے۔ تو اگر آپ کے پاس پریشر کوکر نہیں ہے تو میری مانیں، آج ہی خرید لیں۔ یہ آپ کی زندگی میں آسانی لائے گا اور جیب پر بھی بھاری نہیں پڑے گا۔

باورچی خانے کے راز: توانائی بچانے والی سمارٹ حکمتیں

Advertisement

بچی ہوئی گرمی کا جادو: پکانے کے بعد چولہا بند کریں

یہ ایک ایسا راز ہے جو شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا۔ مجھے تو یہ اپنی نانی اماں نے بتایا تھا، وہ کہتی تھیں کہ “جب ہانڈی میں تھوڑا سا پانی رہ جائے تو چولہا بند کر دو، وہ اپنی ہی بھاپ میں پک جائے گی اور مزیدار بھی بنے گی۔” اس بات کی گہرائی مجھے تب محسوس ہوئی جب میں نے خود اس پر عمل کرنا شروع کیا۔ پاستا، چاول، یا پھر سبزی جب تقریباً تیار ہو جائے تو چولہا بند کر دیں، برتن کو ڈھک کر رکھ دیں، بقیہ گرمی میں کھانا خود بخود پک جائے گا اور اس کا ذائقہ بھی زیادہ اچھا آئے گا۔ اس طرح ہم گیس یا بجلی کی کافی بچت کر سکتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا عمل ہے لیکن اس کے نتائج بہت شاندار ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی سرد رات میں رضائی کے اندر سو جانا، جسم کی اپنی ہی گرمی سے نیند آنا۔ اسی طرح کھانے کی اپنی گرمی سے مزید پکنا کمال ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ گوشت گلانے میں یا دال کو دم دینے میں یہ ٹیکنیک کمال کی ثابت ہوتی ہے۔ یہ کوئی جادو نہیں بلکہ سائنس ہے!

ڈھکن کا صحیح استعمال: حرارت کو قید کرنا

کیا آپ کو کبھی لگا ہے کہ کوئی کھانا پکنے میں بہت زیادہ وقت لے رہا ہے؟ اکثر اس کی وجہ برتن کا ڈھکن نہ ہونا یا صحیح ڈھکن کا استعمال نہ کرنا ہوتا ہے۔ جب آپ برتن کو ڈھکتے ہیں تو حرارت اندر قید ہو جاتی ہے، جس سے کھانا جلدی پکتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کسی کمرے کی کھڑکیاں اور دروازے بند کر کے ہیٹر چلانا۔ اگر کھلا رکھیں گے تو گرمی باہر نکل جائے گی اور کمرہ گرم نہیں ہوگا۔ اسی طرح کھانا بھی دیر سے پکے گا۔ ایک بار میں نے پلاؤ بنایا تھا اور ڈھکن کو ٹھیک سے بند نہیں کیا، یقین کریں اتنی دیر لگی کہ میں پریشان ہو گئی تھی۔ اس کے بعد سے میں ڈھکن کا خاص خیال رکھتی ہوں۔ یہ نہ صرف کھانا جلدی پکاتا ہے بلکہ اس سے کھانے کا ذائقہ اور غذائیت بھی محفوظ رہتی ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ برتن کا سائز چولہے کے برنر کے مطابق ہونا چاہیے، نہ بہت بڑا اور نہ بہت چھوٹا، تاکہ حرارت یکساں طور پر تقسیم ہو سکے۔

پرانے دیسی طریقے، نئے دور کی بچت

مٹی کے برتنوں کا کمال: توانائی کی قدرتی بچت

ہمارے آباء و اجداد بہت ذہین تھے، انہوں نے ہمیشہ فطرت کے قریب رہ کر زندگی گزاری اور انہی سے چیزیں سیکھیں۔ مٹی کے برتنوں میں کھانا پکانا ایک ایسا ہی بہترین طریقہ ہے جو نہ صرف توانائی بچاتا ہے بلکہ کھانے کا ذائقہ اور غذائیت بھی بڑھاتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں بچپن میں نانی کے گھر جاتی تھی تو وہ ہنڈیا میں دال اور سالن بناتیں تھیں۔ اس کا ذائقہ آج بھی میرے منہ میں گھل جاتا ہے۔ مٹی کے برتنوں میں حرارت بہت آہستہ اور یکساں طور پر پھیلتی ہے، جس سے کھانا دیر تک گرم رہتا ہے اور پکنے میں بھی کم گیس استعمال ہوتی ہے۔ آج کل تو بازار میں مٹی کے جدید برتن بھی دستیاب ہیں جو اوون اور چولہے دونوں پر استعمال ہو سکتے ہیں۔ میں نے خود حال ہی میں ایک مٹی کی ہنڈیا خریدی ہے اور اس میں دال پکائی، یقین کریں مزہ ہی آ گیا۔ یہ ایک صحت مند اور ماحول دوست آپشن ہے جسے اپنا کر ہم اپنے بجلی اور گیس کے بلوں کو بھی کم کر سکتے ہیں۔

سردیوں کی دھوپ کا استعمال: قدرت کی مفت توانائی

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ سردیوں کی نرم دھوپ بھی آپ کے باورچی خانے میں کام آ سکتی ہے؟ یہ ایک ایسا مفت ذریعہ ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میرے ایک پڑوسی ہیں، وہ دھوپ میں دالیں بھگو دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ اس سے وہ جلدی گل جاتی ہیں۔ میں نے بھی یہ طریقہ آزمایا ہے، اور یہ واقعی کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ کھانے ایسے بھی ہیں جنہیں دھوپ میں تھوڑی دیر رکھ کر گرم کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر اگر آپ کے پاس مائیکرو ویو نہیں ہے۔ دھوپ ایک قدرتی ڈس انفیکٹنٹ بھی ہے، جو کھانے کو تازہ رکھنے میں مدد کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، آپ کھانا پکانے سے پہلے سبزیوں اور دالوں کو دھوپ میں رکھ سکتے ہیں تاکہ ان کا درجہ حرارت بڑھ جائے اور وہ پکنے میں کم وقت لیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے دیسی طریقے ہمیں اپنے ماحول سے جوڑتے ہیں اور ہمیں توانائی کی اہمیت بھی سکھاتے ہیں۔

کھانے پکانے کے آلات کا دانشمندانہ استعمال

Advertisement

مائیکروویو اور اوون کا سمجھداری سے استعمال

آج کے دور میں مائیکروویو اور اوون ہمارے کچن کا لازمی حصہ بن چکے ہیں، لیکن ان کا صحیح استعمال توانائی کی بچت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے اپنا پہلا مائیکروویو خریدا تھا، تو میں ہر چیز اس میں گرم کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ لیکن جلد ہی احساس ہوا کہ ہر چیز مائیکروویو کے لیے نہیں ہے۔ مائیکروویو چھوٹے حصوں کو گرم کرنے یا ڈیفراسٹ کرنے کے لیے بہترین ہے، جبکہ اوون بڑے کھانے جیسے روسٹ یا بیکنگ کے لیے زیادہ مؤثر ہے۔ اگر آپ صرف ایک کپ چائے گرم کر رہے ہیں تو مائیکروویو کا استعمال کریں نہ کہ چولہے کا، اس سے کافی گیس بچ سکتی ہے۔ اسی طرح، اگر آپ کسی چیز کو اوون میں بیک کر رہے ہیں تو بار بار اوون کا دروازہ نہ کھولیں، اس سے حرارت باہر نکل جاتی ہے اور توانائی زیادہ خرچ ہوتی ہے۔ میں نے ایک بار کیک بناتے ہوئے بار بار اوون کھولا تھا اور وہ ٹھیک سے پکا ہی نہیں تھا، اس کے بعد سے میں نے یہ غلطی کبھی نہیں دہرائی۔

فریج اور فریزر کا صحیح درجہ حرارت اور صفائی

یہ شاید کھانا پکانے سے براہ راست متعلق نہ لگے، لیکن فریج اور فریزر کا صحیح استعمال اور دیکھ بھال بھی توانائی کی بچت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر آپ کے فریج کا درجہ حرارت بہت کم ہے یا اس میں بہت زیادہ برف جم گئی ہے تو اسے زیادہ بجلی استعمال کرنی پڑتی ہے۔ مجھے یاد ہے ایک بار میرے فریج کی گیسکیٹ خراب ہو گئی تھی، اور بجلی کا بل بہت زیادہ آیا تھا۔ جب الیکٹریشن نے بتایا تو مجھے بہت حیرانی ہوئی۔ اس کے بعد میں نے فریج کی گیسکیٹ کو باقاعدگی سے چیک کرنا شروع کیا۔ فریج کو اوور لوڈ نہ کریں اور نہ ہی بہت خالی رکھیں۔ اس کے علاوہ، گرم کھانے کو کبھی بھی فریج میں نہ رکھیں، اسے پہلے مکمل ٹھنڈا ہونے دیں۔ اس سے فریج کو اضافی کام نہیں کرنا پڑے گا اور بجلی کی بچت ہوگی۔ ہفتے میں ایک بار فریج کی صفائی اور ڈیفراسٹنگ بھی ضروری ہے تاکہ اس کی کارکردگی بہتر رہے۔

موسم سرما کی سپر فوڈز: جو گرم رکھیں اور بل بھی بچائیں

겨울철 따뜻한 요리로 에너지 절약하기 - **Prompt:** A dynamic and well-lit shot of a modern Pakistani kitchen. An adult (modestly dressed in...

پروٹین سے بھرپور دالیں اور پھلیاں: گرما گرم اور سستی

سردیوں میں ہماری جسم کو زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ گرم رہ سکے، اور پروٹین اس توانائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ دالیں اور پھلیاں نہ صرف پروٹین سے بھرپور ہوتی ہیں بلکہ یہ سستی بھی ہوتی ہیں اور انہیں پکانے میں بھی کم وقت لگتا ہے۔ خاص طور پر مٹر، چنے، اور لوبیا جیسی پھلیاں سردیوں میں بہت مفید ہوتی ہیں۔ مجھے یاد ہے، جب ہم چھوٹے تھے تو امی شام کو گرم گرم دال چاول بناتی تھیں، اس کے ساتھ اچار اور سلاد، بس مزہ آ جاتا تھا!

دالیں نہ صرف پیٹ بھرتی ہیں بلکہ دیر تک جسم کو گرم رکھتی ہیں۔ یہ ایک مکمل غذا ہیں اور انہیں پکانے میں زیادہ گیس بھی نہیں لگتی۔ اگر آپ انہیں پریشر کوکر میں بنائیں تو وقت اور گیس دونوں کی بچت ہو جائے گی۔ یہ ایک ایسا آپشن ہے جو ہر لحاظ سے فائدہ مند ہے۔

یخنی اور سوپ: اندرونی حرارت کا بہترین ذریعہ

سردیوں میں یخنی اور مختلف قسم کے سوپ پینا تو جیسے ایک روایت بن چکی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر چکن کارن سوپ اور یخنی بہت پسند ہے، یہ نہ صرف ذائقے دار ہوتے ہیں بلکہ جسم کو اندر سے گرمی بھی بخشتے ہیں۔ ان کو بنانے میں بھی زیادہ وقت نہیں لگتا اور گیس کا استعمال بھی کم ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب ٹھنڈ لگ رہی ہو یا گلا خراب ہو تو ایک گرما گرم پیالہ یخنی کا تو جیسے جان میں جان ڈال دیتا ہے۔ آپ ایک بار زیادہ یخنی بنا کر فریج میں رکھ سکتے ہیں اور ضرورت کے مطابق گرم کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس طرح آپ بار بار گیس کا استعمال کرنے سے بچ جائیں گے اور آپ کے بل میں بھی کمی آئے گی۔ یہ ایک صحت مند، مزیدار اور کفایتی آپشن ہے جو سردیوں کی ہر شام کے لیے بہترین ہے۔

اپنی ترکیبوں میں تھوڑی تبدیلی، بڑی بچت

Advertisement

زیرو ویسٹ کچن: سبزیوں کے چھلکوں اور ہڈیوں کا استعمال

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے باورچی خانے میں روزمرہ استعمال ہونے والی بہت سی ایسی چیزیں ہیں جنہیں ہم بیکار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں، لیکن وہ اصل میں توانائی اور پیسے بچانے میں ہماری مدد کر سکتی ہیں؟ مجھے یاد ہے، میری دادی اماں کبھی بھی سبزیوں کے چھلکے یا گوشت کی ہڈیاں نہیں پھینکتی تھیں۔ وہ انہیں یخنی بنانے یا سبزیوں کے سٹاک کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ یہ ایک بہترین طریقہ ہے “زیرو ویسٹ کچن” بنانے کا، جہاں ہر چیز کا صحیح استعمال کیا جائے۔ سبزیوں کے چھلکوں سے بنا سٹاک سوپ یا یخنی کا ذائقہ بڑھاتا ہے اور اس سے ہمیں قیمتی غذائی اجزاء بھی ملتے ہیں۔ گوشت کی ہڈیاں بھی بہترین یخنی بناتی ہیں جو سردیوں میں بہت فائدہ مند ہوتی ہے۔ اس طرح آپ کو اضافی چیزیں خریدنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور آپ کی گیس کی بچت بھی ہوتی ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی عادت ہے جو آپ کے بجٹ پر بڑا مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔

پہلے سے تیاری: سردیوں میں آسانیاں

میرے ایک دوست کی امی ہمیشہ اتوار کو اگلے پورے ہفتے کے کھانے کی تیاری کر کے رکھ لیتی تھیں۔ پہلے مجھے یہ تھوڑا عجیب لگتا تھا، لیکن اب میں خود بھی یہی طریقہ اپناتی ہوں۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ گیس اور بجلی کی بھی بچت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، آپ پیاز کو فرائی کر کے رکھ سکتے ہیں، لہسن ادرک کا پیسٹ بنا کر محفوظ کر سکتے ہیں، دالیں ابال کر رکھ سکتے ہیں یا چکن کو میرینیٹ کر کے فریج میں رکھ سکتے ہیں۔ جب آپ ایک ہی وقت میں یہ ساری چیزیں کر لیتے ہیں تو چولہا بار بار نہیں جلانا پڑتا۔ اس سے ایک ہی بار میں کافی چیزیں تیار ہو جاتی ہیں اور آپ کو روزانہ دوبارہ چولہا نہیں جلانا پڑتا۔ یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو مصروف ہیں اور جن کے پاس روزانہ زیادہ وقت نہیں ہوتا۔

ہفتہ وار پلاننگ سے کیسے بچت کی جائے؟

کھانوں کی ہفتہ وار منصوبہ بندی: گیس اور بجلی کی بچت

کیا آپ کو معلوم ہے کہ اپنے کھانوں کی ہفتہ وار منصوبہ بندی کر کے آپ نہ صرف اپنا وقت بچا سکتے ہیں بلکہ بجلی اور گیس کا بھی بڑا حصہ بچا سکتے ہیں؟ مجھے یاد ہے، پہلے میں روزانہ سوچتی رہتی تھی کہ آج کیا پکاؤں، اور اکثر اوقات جلدی میں جو بھی سمجھ آتا بنا لیتی۔ لیکن جب سے میں نے ہفتہ وار مینیو پلان کرنا شروع کیا ہے، میری زندگی آسان ہو گئی ہے۔ ایک تو آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ کیا بنانا ہے، دوسرا آپ اسی حساب سے سودا سلف خریدتے ہیں جو کہ فضول خرچی سے بچاتا ہے۔ اور تیسرا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ آپ ایسے کھانوں کو ایک ساتھ پلان کر سکتے ہیں جن میں ایک جیسی چیزیں استعمال ہوتی ہوں یا جنہیں بنانے کے لیے ایک ہی بار چولہا جلانے کی ضرورت ہو۔ مثلاً، اگر آپ نے پائے بنانے ہیں تو اسی دن کچھ اور ایسا بنائیں جس میں زیادہ وقت لگے، یا جسے بیک کرنا ہو۔ اس طرح آپ بجلی یا گیس کے ایک ہی استعمال سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

موسم کے مطابق کھانا: فطرت سے توانائی حاصل کریں

فطرت نے ہمیں ہر موسم کے حساب سے خاص تحفے دیے ہیں، اور اگر ہم ان کا صحیح استعمال کریں تو ہم بہت سی توانائی بچا سکتے ہیں۔ سردیوں میں قدرت نے ہمیں گڑ، مونگ پھلی، اور خشک میووں جیسی چیزیں دی ہیں جو جسم کو قدرتی طور پر گرم رکھتی ہیں۔ مجھے یاد ہے، بچپن میں سردیوں میں اماں رات کو مونگ پھلی اور گڑ کی چائے بناتی تھیں، وہ نہ صرف مزے دار ہوتی تھیں بلکہ جسم کو بھی گرم رکھتی تھیں۔ اس کے علاوہ، سردیوں میں آنے والی سبزیاں جیسے گاجر، پالک، اور سرسوں کا ساگ بھی جسم کو گرمی بخشتے ہیں اور ان کو پکانے میں بھی زیادہ محنت اور توانائی نہیں لگتی۔ مقامی اور موسمی سبزیاں سستی بھی ہوتی ہیں اور انہیں خریدنے کے لیے دور دراز علاقوں سے منگوانے کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے ٹرانسپورٹیشن میں لگنے والی توانائی بھی بچتی ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے فیصلے دراصل ماحول دوست اور آپ کے بجٹ دوست بھی ہوتے ہیں۔

کھانا پکانے کا طریقہ توانائی بچت کی سطح وجوہات
پریشر کوکر میں پکانا بہت زیادہ وقت اور حرارت کو قید کرتا ہے، کھانا جلدی پکاتا ہے۔
ایک برتن میں پکانا (ون پاٹ میل) زیادہ کم برتن استعمال ہوتے ہیں، حرارت کا ضیاع کم ہوتا ہے۔
چولہا بند کر کے دم دینا متوسط بقیہ حرارت کا استعمال، کم گیس/بجلی۔
مائیکروویو کا صحیح استعمال متوسط چھوٹے حصوں کو فوری گرم کرنے کے لیے مؤثر۔
مٹی کے برتنوں میں پکانا متوسط حرارت آہستہ اور یکساں پھیلتی ہے، دیر تک گرم رہتا ہے۔

آخر میں چند باتیں

میرے پیارے دوستو، مجھے پوری امید ہے کہ آج کی یہ گفتگو آپ کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی ہوگی۔ ہم سب کی خواہش ہوتی ہے کہ سردیوں میں گرما گرم کھانے کھائیں اور گھر بھی گرم رہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بجٹ کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ میرا ہمیشہ سے یہی ماننا رہا ہے کہ چھوٹے چھوٹے طریقے اور سمجھداری کے فیصلے ہی ہماری زندگی میں بڑی آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ اپنے کچن میں تھوڑی سی تبدیلی لا کر اور دیسی ٹوٹکوں کو اپنا کر، ہم نہ صرف توانائی بچا سکتے ہیں بلکہ ماحول کا بھی خیال رکھ سکتے ہیں۔ یہ صرف پیسے بچانے کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ذمہ دار اور باشعور شہری بننے کی بھی بات ہے۔ تو بس آج سے ہی ان طریقوں کو اپنائیں اور دیکھیں کہ کیسے آپ کے کچن میں جادو ہوتا ہے! اگلے بلاگ پوسٹ میں ایک اور نئے اور دلچسپ موضوع کے ساتھ پھر حاضر ہوں گی، تب تک اپنا اور اپنے پیاروں کا خوب خیال رکھیے گا!

Advertisement

کارآمد معلومات جو آپ کو جاننی چاہئیں

1. کھانا پکانے سے پہلے اپنی تمام اشیاء ایک جگہ جمع کر لیں تاکہ بار بار چولہا کھولنے اور بند کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اس سے وقت اور توانائی دونوں کی بچت ہوتی ہے۔

2. برتنوں کا سائز چولہے کے برنر کے مطابق منتخب کریں تاکہ حرارت کا ضیاع کم سے کم ہو اور کھانا یکساں طور پر پک سکے۔ یہ ایک چھوٹی سی تفصیل ہے مگر بڑا فرق ڈالتی ہے۔

3. پرانے کچن اپلائنسز کی بجائے نئے اور توانائی بچانے والے آلات کا انتخاب کریں، کیونکہ یہ طویل مدت میں آپ کے بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔

4. کھانا پکانے کے لیے صحیح ڈھکن کا استعمال یقینی بنائیں تاکہ حرارت برتن کے اندر ہی رہے اور کھانا جلدی تیار ہو سکے۔ یہ ڈھکن کا جادو آپ کو خود حیران کر دے گا۔

5. ہفتہ وار کھانے کی منصوبہ بندی کریں اور ایسی ترکیبوں کا انتخاب کریں جن میں کم توانائی درکار ہو، مثلاً ایک ہی وقت میں کئی چیزیں بیک کر لینا یا ایک دیگچی والے کھانے بنانا۔

اہم نکات کا خلاصہ

آج کی اس تفصیلی گائیڈ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ آپ کو سردیوں میں گرم کھانے کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کی بچت کے ایسے طریقے بتائے جائیں جو عملی اور مؤثر ہوں۔ ہم نے دیکھا کہ ایک برتن میں پکانے والے کھانے، پریشر کوکر کا دانشمندانہ استعمال، اور چولہا بند کر کے بقیہ حرارت میں کھانے کو دم دینا کس قدر فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، مٹی کے برتنوں کا استعمال اور دھوپ جیسی قدرتی توانائی کا فائدہ اٹھانا بھی ہمارے آباء و اجداد کا ایک بہترین ورثہ ہے جسے ہمیں دوبارہ اپنانا چاہیے۔ اپنے کچن کے آلات جیسے مائیکروویو اور اوون کو سمجھداری سے استعمال کرنا اور فریج و فریزر کی باقاعدہ دیکھ بھال بھی توانائی کی بچت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یاد رکھیں، پروٹین سے بھرپور دالیں، یخنی اور سوپ نہ صرف جسم کو گرم رکھتے ہیں بلکہ سستی اور غذائیت سے بھرپور بھی ہوتے ہیں۔ سبزیوں کے چھلکوں سے سٹاک بنانا اور پہلے سے تیاری کر کے رکھنا جیسے زیرو ویسٹ کچن کے اصول بھی آپ کے بجٹ کو بہت فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ آخر میں، کھانوں کی ہفتہ وار منصوبہ بندی اور موسم کے مطابق کھانے کا انتخاب کر کے ہم نہ صرف صحت مند رہ سکتے ہیں بلکہ اپنی جیب کو بھی خوش رکھ سکتے ہیں۔ یہ سب طریقے مجھے اپنی زندگی میں بہت کام آئے ہیں، اور میں چاہتی ہوں کہ میرے پیارے فالوورز بھی ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: سردیوں میں ایسے کون سے کھانے ہیں جو جسم کو گرم رکھیں اور بجلی یا گیس کا بل بھی کم کریں؟

ج: مجھے یاد ہے، بچپن میں جب سردی بڑھ جاتی تھی تو امی جان اکثر دالیں، سوپ اور سبزیوں کے سالن بناتی تھیں جو نہ صرف پیٹ بھرنے والے ہوتے تھے بلکہ جسم کو اندر سے گرم بھی رکھتے تھے۔ میرا تجربہ ہے کہ سردیوں میں شوربے والے کھانے، جیسے دال ماش یا دال چنا کا شوربہ، یخنی، یا سبزیوں کا سوپ، واقعی بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ یہ کم آنچ پر آرام سے پک جاتے ہیں اور آپ کو دیر تک سیر رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ثابت اناج جیسے باجرے یا مکئی کی روٹی بھی سردی بھگانے میں لاجواب ہے۔ ان میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے اور دیر تک گرم رکھتی ہے۔ اور تو اور، گڑ اور مونگ پھلی جیسی چیزیں بھی نہ صرف کم خرچ ہیں بلکہ ان کو بنانے میں کوئی ایندھن بھی نہیں لگتا اور یہ سردی کا بہترین توڑ ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب میں گھر میں ایسے کھانے بناتی ہوں تو بل پر بھی خاصا فرق پڑتا ہے، کیونکہ یہ ایک تو جلدی بن جاتے ہیں اور دوسرا بار بار کچھ نیا پکانے کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی۔

س: کھانا بناتے وقت ایسی کون سی چھوٹی چھوٹی عادتیں ہیں جو سردیوں میں توانائی بچانے میں مدد دیتی ہیں؟

ج: یقین کریں، یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی بڑے فائدے دیتی ہیں۔ سب سے پہلے تو میں آپ کو پریشر ککر کے استعمال کا مشورہ دوں گی۔ میں نے خود تجربہ کیا ہے کہ گوشت، دالیں یا چنے جیسی چیزیں جو عام برتن میں گھنٹوں لیتی ہیں، پریشر ککر میں آدھے سے بھی کم وقت میں تیار ہو جاتی ہیں، اور یوں گیس کی بچت ہوتی ہے۔ دوسرا، اگر آپ کے پاس کوئی چیز فریز کی ہوئی ہے، تو اسے پکانے سے کچھ دیر پہلے باہر نکال کر رکھ دیں تاکہ وہ خود بخود پگھل جائے۔ اس طرح اسے پگھلانے کے لیے اضافی توانائی خرچ نہیں کرنی پڑے گی۔ تیسری اہم بات، ہمیشہ اپنے برتن کے سائز کے مطابق چولہے کا انتخاب کریں۔ چھوٹا برتن بڑی آنچ پر رکھنے سے گیس ضائع ہوتی ہے۔ اور ہاں، ڈھکن کا استعمال تو لازمی ہے۔ میں نے کئی بار محسوس کیا ہے کہ ڈھکن لگانے سے کھانا جلدی پکتا ہے اور گرمی باہر نہیں نکلتی۔ آخر میں، کھانا مکمل پکنے سے چند منٹ پہلے ہی چولہا بند کر دیں، کیونکہ برتن کی اپنی گرمی سے باقی کسر پوری ہو جاتی ہے۔ یہ سب چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ہیں جو میں نے اپنی کچن روٹین میں شامل کی ہیں اور ان سے واقعی فرق پڑا ہے۔

س: سردیوں میں توانائی کی بچت کے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کے لیے مزیدار اور روایتی کھانے کیسے تیار کیے جا سکتے ہیں؟

ج: یہ تو ایک بڑا دلچسپ سوال ہے! مجھے لگتا ہے کہ ہم پاکستانیوں کے لیے تو روایتی کھانوں کے بغیر سردی کا تصور بھی مشکل ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ہم پرانے ذائقوں کو نئے طریقوں سے برقرار رکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، روایتی حلیم یا پائے بنانے میں کافی وقت لگتا ہے، لیکن اگر آپ ان کے اجزاء کو پریشر ککر میں ابال لیں اور پھر انہیں آہستہ پکنے دیں، تو ذائقہ بھی وہی رہتا ہے اور ایندھن بھی کم خرچ ہوتا ہے۔ میں نے کئی بار ایسا کیا ہے اور کوئی بھی ذائقے میں فرق نہیں پہچان پایا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ایک ہی بار زیادہ مقدار میں شوربے والے سالن یا دالیں بنا کر رکھ لیں جو دو تین دن چل سکیں، اس سے بار بار چولہا جلانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس کے علاوہ، تندور کا استعمال بھی ایک اچھا آپشن ہے۔ اگر آپ روٹی یا نان باہر سے منگواتے ہیں تو اس کی بجائے گھر میں گندم یا مکئی کا آٹا گوندھ کر توے پر یا تندور میں روٹیاں پکائیں، اس کا مزہ ہی الگ ہے۔ میری نانی اماں اکثر کہا کرتی تھیں کہ سردیوں میں ایک ہی برتن میں کئی چیزیں پک سکتی ہیں، جیسے یخنی بنانے کے بعد اسی میں چاول ڈال کر پلاؤ تیار کر لیا جائے۔ یہ طریقے نہ صرف توانائی بچاتے ہیں بلکہ ہمارے روایتی کھانوں کا مزہ بھی برقرار رکھتے ہیں۔

Advertisement