توانائی بچت کے وہ 7 خفیہ طریقے جو آپ کے باورچی خانے کے آلات کا بل آدھا کر دیں

webmaster

에너지 절약을 위한 주방 기구 사용법 - **Prompt:** A brightly lit, clean Pakistani kitchen. A modestly dressed woman, wearing a traditional...

بہت سے پاکستانی گھرانوں کی طرح، بجلی کا بڑھتا ہوا بل میرے لیے بھی ہمیشہ سر درد رہا ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ جب ہر مہینے ہمارے ہاتھ میں بجلی کا بل آتا ہے، تو دل ڈوب سا جاتا ہے؟ خاص طور پر آج کل کے دور میں جب مہنگائی عروج پر ہے اور بجلی کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، تو توانائی کی بچت صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک ضرورت بن گئی ہے۔ میں نے خود اپنی کچن میں کئی طریقوں کو آزما کر دیکھا ہے، اور یقین کریں، کچھ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں بہت بڑا فرق لا سکتی ہیں۔ ہمارے ملک میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ بھی اپنی جگہ، ایسے میں سمجھداری سے بجلی کا استعمال ہمارے اپنے فائدے میں ہے۔آج میں آپ کے لیے کچن کے آلات کو توانائی بچانے والے بہترین طریقوں سے استعمال کرنے کے کچھ ایسے راز لے کر آئی ہوں جو آپ کے بجلی کے بل کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں۔ یہ صرف پرانے طریقے نہیں ہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ عادات کا ایسا امتزاج ہے جو آپ کو حیران کر دے گا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کچن ہی وہ جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ بجلی استعمال ہوتی ہے، تو اگر یہاں بچت ہو جائے تو سمجھو آدھی جنگ جیت لی۔ میرے ذاتی تجربے کے مطابق، اگر ہم تھوڑی سی توجہ دیں تو بغیر کسی بڑی سرمایہ کاری کے بھی بہت پیسے بچا سکتے ہیں۔ آئیے، مزید تفصیل سے جانتے ہیں کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں کیسے سمارٹ بن سکتے ہیں اور اپنے گھر کے کچن کو توانائی بچانے والا بنا سکتے ہیں۔ اس پر دلچسپ اور کارآمد معلومات کے لیے، نیچے دیے گئے مضمون میں مزید تفصیل سے جانتے ہیں۔بہت سے پاکستانی گھرانوں کی طرح، بجلی کا بڑھتا ہوا بل میرے لیے بھی ہمیشہ سر درد رہا ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ جب ہر مہینے ہمارے ہاتھ میں بجلی کا بل آتا ہے، تو دل ڈوب سا جاتا ہے؟ خاص طور پر آج کل کے دور میں جب مہنگائی عروج پر ہے اور بجلی کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، تو توانائی کی بچت صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک ضرورت بن گئی ہے۔ میں نے خود اپنی کچن میں کئی طریقوں کو آزما کر دیکھا ہے، اور یقین کریں، کچھ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں بہت بڑا فرق لا سکتی ہیں۔ ہمارے ملک میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ بھی اپنی جگہ، ایسے میں سمجھداری سے بجلی کا استعمال ہمارے اپنے فائدے میں ہے۔آج میں آپ کے لیے کچن کے آلات کو توانائی بچانے والے بہترین طریقوں سے استعمال کرنے کے کچھ ایسے راز لے کر آئی ہوں جو آپ کے بجلی کے بل کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں۔ یہ صرف پرانے طریقے نہیں ہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ عادات کا ایسا امتزاج ہے جو آپ کو حیران کر دے گا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کچن ہی وہ جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ بجلی استعمال ہوتی ہے، تو اگر یہاں بچت ہو جائے تو سمجھو آدھی جنگ جیت لی۔ میرے ذاتی تجربے کے مطابق، اگر ہم تھوڑی سی توجہ دیں تو بغیر کسی بڑی سرمایہ کاری کے بھی بہت پیسے بچا سکتے ہیں۔ آئیے، مزید تفصیل سے جانتے ہیں کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں کیسے سمارٹ بن سکتے ہیں اور اپنے گھر کے کچن کو توانائی بچانے والا بنا سکتے ہیں۔ اس پر دلچسپ اور کارآمد معلومات کے لیے، نیچے دیے گئے مضمون میں مزید تفصیل سے جانتے ہیں۔

ریفریجریٹر اور فریزر: بجلی بچت کے چیمپئن

에너지 절약을 위한 주방 기구 사용법 - **Prompt:** A brightly lit, clean Pakistani kitchen. A modestly dressed woman, wearing a traditional...

ہم سب کے کچن میں ریفریجریٹر سب سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات میں سے ایک ہے، اور میں جانتی ہوں کہ اس کا بل دیکھ کر کیسا لگتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا صحیح استعمال آپ کے بجلی کے بل میں حیرت انگیز کمی لا سکتا ہے؟ میں نے خود اپنے ریفریجریٹر کی جگہ تبدیل کی اور دروازہ بار بار کھولنے کی عادت چھوڑی، اور یقین مانیں، فرق واضح تھا۔ ایک بات جو میں نے نوٹس کی ہے وہ یہ کہ اکثر لوگ ریفریجریٹر کو دیوار سے بالکل لگا کر رکھتے ہیں، جس سے اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے کیونکہ ہوا کا گزر نہیں ہو پاتا۔ اسے دیوار سے کم از کم 6 انچ دور رکھیں تاکہ کمپریسر کو ٹھنڈا ہونے کے لیے مناسب جگہ ملے۔ اس کے علاوہ، گرم کھانا براہ راست فریج میں رکھنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے فریج کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور بجلی بھی زیادہ خرچ ہوتی ہے۔ کھانے کو پہلے کمرے کے درجہ حرارت پر ٹھنڈا ہونے دیں، پھر فریج میں رکھیں۔ اپنے فریزر کو ہمیشہ بھرا رکھیں کیونکہ بھری ہوئی چیزیں ٹھنڈک کو زیادہ دیر تک برقرار رکھتی ہیں اور کمپریسر کو کم چلنا پڑتا ہے۔

فریج کی دیکھ بھال اور درجہ حرارت

  • اپنے فریج کے دروازے کی ربڑ سیلز کو باقاعدگی سے چیک کریں۔ اگر وہ خراب ہوں تو انہیں فوراً تبدیل کروائیں، ورنہ ٹھنڈی ہوا باہر نکلتی رہے گی اور بجلی زیادہ خرچ ہوگی۔ میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ میرے فریج کی سیل خراب ہو گئی تھی اور اسی مہینے میرا بل کچھ زیادہ آیا تھا۔
  • فریج کا درجہ حرارت مناسب حد پر رکھیں۔ 2 سے 4 ڈگری سیلسیس ریفریجریٹر کے لیے اور منفی 18 ڈگری سیلسیس فریزر کے لیے بہترین ہے۔ اس سے زیادہ ٹھنڈا رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ صرف بجلی کا ضیاع ہے۔

کھانے کی ذخیرہ اندوزی کے بہترین طریقے

  • فریج میں چیزوں کو منظم طریقے سے رکھیں۔ اس طرح آپ کو چیزیں ڈھونڈنے میں آسانی ہوگی اور دروازہ کم وقت کے لیے کھلے گا۔ جتنی دیر دروازہ کھلا رہے گا، اتنی ہی زیادہ ٹھنڈی ہوا باہر نکلے گی اور بجلی زیادہ استعمال ہوگی۔
  • کھانے کو ڈھک کر رکھیں۔ اس سے کھانے میں نمی برقرار رہتی ہے اور فریج میں بو بھی نہیں پھیلتی۔ سب سے اہم بات یہ کہ کھلا کھانا فریج کو زیادہ محنت کرنے پر مجبور کرتا ہے کیونکہ وہ نمی خارج کرتا ہے، جس سے کمپریسر پر دباؤ پڑتا ہے۔

کھانا پکانے کے جدید طریقے: چولہے سے اوون تک

ہمارے کچن میں سب سے زیادہ توانائی استعمال کرنے والا عمل کھانا پکانا ہے، اور میں یہ بات اپنے تجربے سے کہہ رہی ہوں۔ روایتی طریقوں میں بجلی کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے، لیکن اگر ہم تھوڑی سی سمجھداری دکھائیں تو بہت بچت کر سکتے ہیں۔ میں نے خود جب سے پریشر ککر کا استعمال شروع کیا ہے، وقت اور بجلی دونوں کی بچت ہوتی ہے۔ خاص طور پر دال اور گوشت جیسی چیزیں جو زیادہ وقت لیتی ہیں، پریشر ککر میں کم وقت میں بن جاتی ہیں۔ اوون کا استعمال بھی اگر سمارٹ طریقے سے کیا جائے تو یہ ایک بہترین آپشن ہے۔ اوون کو بار بار کھول کر دیکھنے سے گریز کریں کیونکہ ہر بار دروازہ کھولنے سے اندر کی گرمی تقریباً 25 فیصد کم ہو جاتی ہے اور اسے دوبارہ گرم ہونے میں زیادہ توانائی لگتی ہے۔ میں ہمیشہ کھانے کو شیشے کے برتنوں میں پکاتی ہوں، کیونکہ شیشہ گرمی کو بہتر طریقے سے جذب کرتا ہے اور کھانا جلد پکتا ہے۔

پریشر ککر اور مائیکروویو کے کمالات

  • پریشر ککر کا استعمال آپ کے کھانا پکانے کے وقت کو آدھا کر سکتا ہے اور اس سے بجلی کی بھی کافی بچت ہوتی ہے۔ ایک بار جب آپ کو اس کا استعمال آ جائے گا تو آپ خود محسوس کریں گے کہ یہ کتنا مفید ہے۔
  • مائیکروویو اوون چھوٹے پیمانے پر کھانے کو گرم کرنے یا ڈیفروسٹ کرنے کے لیے ایک بہترین آپشن ہے۔ یہ روایتی اوون کے مقابلے میں بہت کم بجلی استعمال کرتا ہے اور تیزی سے کام کرتا ہے۔ لیکن بڑی مقدار میں کھانا پکانے کے لیے یہ شاید اتنا مؤثر نہ ہو۔

اوون کا سمارٹ استعمال

  • اوون کو پہلے سے گرم کرنے کی عادت سے بچیں۔ اکثر کھانے ایسے ہوتے ہیں جنہیں پہلے سے گرم کیے بغیر بھی اوون میں رکھا جا سکتا ہے۔ اس سے بجلی کی بچت ہوتی ہے۔ جب آپ اوون استعمال کریں تو اسے اس کے مکمل حجم پر استعمال کرنے کی کوشش کریں، یعنی ایک ساتھ کئی چیزیں پکائیں۔
  • اوون کو پکنے کے وقت سے چند منٹ پہلے بند کر دیں۔ اوون کی باقی ماندہ گرمی سے کھانا مکمل طور پر پک جائے گا۔ میں نے اکثر بریڈ یا کیک پکاتے ہوئے یہ ٹپ استعمال کی ہے اور یہ واقعی کام کرتی ہے۔
Advertisement

پانی کے آلات کا سمارٹ استعمال: گیزیٹر سے ڈش واشر تک

کچن میں پانی کے آلات کا استعمال بھی بجلی کے بل پر خاصا اثر ڈالتا ہے۔ خاص طور پر سردیوں میں گیزیٹر کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ اگر ہم گیزیٹر کو ہر وقت آن رکھنے کی بجائے ضرورت کے وقت ہی استعمال کریں تو کافی فرق پڑتا ہے۔ ٹائمر والے گیزیٹرز بھی ایک بہترین آپشن ہیں جو صرف مقررہ وقت پر پانی گرم کرتے ہیں۔ ڈش واشر بھی ایک ایسا آلہ ہے جو اگر سمجھداری سے استعمال نہ کیا جائے تو بجلی کا بل بڑھا سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ڈش واشر میں برتن دھونا ہمیشہ زیادہ مہنگا ہوتا ہے، لیکن اگر آپ اسے پوری طرح بھر کر استعمال کریں اور “ایکو موڈ” پر چلائیں تو یہ ہاتھ سے برتن دھونے کے مقابلے میں پانی اور بجلی دونوں کی بچت کر سکتا ہے۔

گیزیٹر کی بچت کے گر

  • گیزیٹر کو اونچے درجہ حرارت پر سیٹ کرنے سے گریز کریں۔ 50-60 ڈگری سیلسیس عام طور پر کافی ہوتا ہے۔ زیادہ گرم پانی بنانے میں زیادہ بجلی لگتی ہے۔ میں نے اپنے گیزیٹر کو درمیانے درجے پر سیٹ کیا ہوا ہے اور یہ بالکل ٹھیک ہے۔
  • گیزیٹر کی باقاعدہ دیکھ بھال کروائیں۔ اس میں جمع ہونے والا چونا (lime scale) اس کی کارکردگی کو کم کرتا ہے اور بجلی زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ سال میں ایک بار اس کی صفائی کروانا بہت ضروری ہے۔

ڈش واشر کا ہوشیار استعمال

  • ڈش واشر کو ہمیشہ مکمل طور پر بھر کر چلائیں۔ آدھے بھرے ڈش واشر کو چلانا بجلی اور پانی کا ضیاع ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ برتنوں کے جمع ہونے کا انتظار کریں پھر ایک بار میں دھو لیں۔
  • “ایکو” یا “انرجی سیونگ” موڈ کا استعمال کریں۔ یہ موڈ کم درجہ حرارت اور کم پانی پر برتن دھوتا ہے، جس سے بجلی کی بچت ہوتی ہے۔ میں نے خود یہ موڈ استعمال کر کے دیکھا ہے اور برتن پھر بھی صاف ستھرے ہو جاتے ہیں۔

کچن کی روشنیاں اور وینٹیلیشن: چھوٹی تبدیلیاں، بڑا اثر

کچن میں روشنی اور وینٹیلیشن بھی بجلی کے بل پر اثرانداز ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے اپنے کچن کی پرانی انکینڈی سینٹ بلبز کو ایل ای ڈی (LED) لائٹس سے بدلا تھا، تو مجھے فوراً بل میں فرق محسوس ہوا۔ ایل ای ڈی لائٹس نہ صرف کم بجلی استعمال کرتی ہیں بلکہ ان کی عمر بھی زیادہ ہوتی ہے۔ دن کے وقت قدرتی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ کھڑکیاں کھول کر رکھیں تاکہ دن کی روشنی کچن میں آئے۔ یہ نہ صرف بجلی کی بچت کرے گا بلکہ آپ کے موڈ کو بھی بہتر بنائے گا۔ کچن میں ایگزاسٹ فین کا استعمال بھی بجلی لیتا ہے، اسے صرف کھانا پکاتے وقت یا کچن میں زیادہ دھواں یا بو ہونے پر ہی چلائیں۔ اسے غیر ضروری طور پر چلانا بجلی کا ضیاع ہے۔

ایل ای ڈی لائٹس کا انتخاب

  • اپنے کچن کی تمام پرانی روشنیوں کو ایل ای ڈی لائٹس سے بدل دیں۔ یہ ایک چھوٹی سی سرمایہ کاری ہے جو طویل مدت میں آپ کو بہت فائدہ دے گی۔ آج کل مارکیٹ میں مختلف ڈیزائنز اور واٹج کی ایل ای ڈی لائٹس آسانی سے دستیاب ہیں۔
  • ڈیمر سوئچز کا استعمال کریں۔ یہ آپ کو روشنی کی شدت کو کنٹرول کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جس سے ضرورت کے مطابق بجلی کی بچت کی جا سکتی ہے۔

قدرتی وینٹیلیشن اور ہوا کا بہاؤ

  • کھانا پکاتے وقت کھڑکیاں اور دروازے کھول دیں تاکہ گرمی اور بو باہر نکل سکے اور ایگزاسٹ فین کا استعمال کم کرنا پڑے۔ یہ خاص طور پر ہمارے ہاں گرم موسم میں بہت کارآمد ہے۔
  • کچن میں کراس وینٹیلیشن کا انتظام کریں۔ اگر آپ کا کچن ایسے بنا ہے کہ ایک طرف سے ہوا اندر آئے اور دوسری طرف سے نکل جائے تو یہ قدرتی وینٹیلیشن کا بہترین طریقہ ہے۔
Advertisement

الیکٹرک کیٹل اور مائیکرو ویو: فوری لیکن ہوشیاری سے

الیکٹرک کیٹل اور مائیکرو ویو اوون آج کل ہر کچن کی ضرورت بن چکے ہیں، خاص طور پر ان کے لیے جو جلدی میں ہوتے ہیں۔ میں خود چائے بنانے کے لیے الیکٹرک کیٹل کا بہت استعمال کرتی ہوں۔ لیکن اگر ان کا صحیح استعمال نہ کیا جائے تو یہ بھی بجلی کے بل میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ الیکٹرک کیٹل میں صرف اتنے پانی کو گرم کریں جتنی آپ کو ضرورت ہے۔ اکثر لوگ کیٹل کو پورا بھر دیتے ہیں حالانکہ انہیں صرف ایک کپ چائے بنانی ہوتی ہے۔ اس سے فالتو بجلی خرچ ہوتی ہے۔ مائیکرو ویو بھی کھانے کو جلدی گرم کرنے کے لیے بہترین ہے، لیکن اسے بھی چھوٹی مقدار میں چیزوں کے لیے استعمال کریں۔ بڑی چیزوں کے لیے یہ زیادہ مؤثر نہیں رہتا۔ یہ آلات فوری طور پر کام کرتے ہیں لیکن ان کی بجلی کی کھپت بھی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔

کیٹل کے استعمال میں سمجھداری

  • صرف اتنے پانی کو گرم کریں جتنی ضرورت ہو۔ ہر بار زیادہ پانی گرم کرنا بجلی کا ضیاع ہے۔ میں نے اکثر اپنی دوستوں کو دیکھا ہے کہ وہ پوری کیٹل بھر دیتی ہیں جب کہ انہیں صرف ایک کپ چائے چاہیے ہوتی ہے۔
  • کیٹل کو باقاعدگی سے صاف کریں۔ اس میں جمع ہونے والا چونا بجلی کی کھپت کو بڑھاتا ہے۔ ایک بار میں نے اپنی کیٹل کو صاف کیا تو اس کے گرم ہونے کا وقت نمایاں طور پر کم ہو گیا۔

مائیکروویو کی مؤثر کارکردگی

  • مائیکروویو کو چھوٹے کھانوں کو دوبارہ گرم کرنے یا ڈیفروسٹ کرنے کے لیے استعمال کریں۔ یہ روایتی اوون کے مقابلے میں بہت زیادہ تیزی سے اور کم بجلی پر یہ کام کرتا ہے۔
  • شیشے یا سیرامک کے برتن استعمال کریں جو مائیکروویو سیف ہوں، یہ کھانے کو زیادہ مؤثر طریقے سے گرم کرتے ہیں کیونکہ یہ مائیکروویو کی شعاعوں کو آسانی سے گزرنے دیتے ہیں۔

کچن کے دیگر چھوٹے موٹے آلات: چھپی ہوئی بچت کے مواقع

کچن میں صرف بڑے آلات ہی بجلی استعمال نہیں کرتے، بلکہ چھوٹے موٹے آلات جیسے ٹوسٹر، بلینڈر، کافی میکر بھی جب استعمال ہوتے ہیں تو بجلی لیتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ یہ بات نوٹ کی ہے کہ اگر ہم ان چھوٹے آلات کو استعمال کرنے کے بعد فوراً سوئچ آف کر دیں تو بھی کافی بچت ہوتی ہے۔ اکثر لوگ ان کے پلگ لگے رہنے دیتے ہیں، جس سے یہ اسٹینڈ بائی موڈ میں بھی بجلی کھاتے رہتے ہیں۔ اسے “فینٹم لوڈ” یا “ویمپائر انرجی” کہتے ہیں جو آپ کے بل میں غیر ضروری اضافہ کرتی ہے۔ ایک اور بات جو میں نے دیکھی ہے وہ یہ کہ بہت سے آلات کو صاف نہ رکھنے کی وجہ سے ان کی کارکردگی کم ہو جاتی ہے اور وہ زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کے بلینڈر کا بلیڈ کند ہو گیا ہے تو اسے زیادہ محنت کرنی پڑے گی اور وہ زیادہ بجلی کھائے گا۔

اسٹینڈ بائی پاور کا خاتمہ

  • استعمال کے بعد تمام چھوٹے آلات کے پلگ نکال دیں۔ یہ ایک بہت ہی آسان عادت ہے جو آپ کو سالانہ اچھی خاصی بچت کروا سکتی ہے۔ میں نے اپنے گھر میں ایک پاور سٹرپ لگائی ہوئی ہے جس میں تمام کچن کے چھوٹے آلات کے پلگ لگے ہوتے ہیں، اور استعمال کے بعد میں ایک ہی سوئچ سے سب کو بند کر دیتی ہوں۔
  • سمارٹ پلگ یا ٹائمر کا استعمال کریں۔ یہ خود بخود آلات کو بند کر دیتے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو اکثر پلگ نکالنا بھول جاتے ہیں۔

آلات کی باقاعدہ دیکھ بھال

  • اپنے تمام چھوٹے آلات کو صاف اور اچھی حالت میں رکھیں۔ مثال کے طور پر، ٹوسٹر کو کرمبز سے صاف رکھیں، بلینڈر کے بلیڈ تیز رکھیں، اور کافی میکر کے اندرونی حصے کو باقاعدگی سے صاف کریں۔
  • خراب یا پرانے آلات کو تبدیل کرنے پر غور کریں۔ بعض اوقات پرانے آلات اتنی زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں کہ نیا، توانائی بچانے والا ماڈل خریدنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ میں نے حال ہی میں اپنا پرانا بلینڈر بدل کر نیا انرجی ایفیشنٹ ماڈل لیا ہے اور مجھے اس میں واقعی فرق محسوس ہوا ہے۔
Advertisement

بجلی کی بچت کے لیے سمارٹ ٹیکنالوجی اور عادات کا امتزاج

에너지 절약을 위한 주방 기구 사용법 - **Prompt:** A contemporary Pakistani kitchen scene showcasing smart cooking. A woman, dressed in com...

آج کے دور میں صرف پرانے طریقوں پر انحصار کرنا کافی نہیں، ہمیں سمارٹ ٹیکنالوجی کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب سے میں نے کچھ سمارٹ آلات اور عادات کو اپنایا ہے، میرے بجلی کے بل میں واضح کمی آئی ہے۔ یہ صرف مہنگے آلات خریدنے کی بات نہیں بلکہ موجودہ آلات کو سمجھداری سے استعمال کرنے کی بھی ہے۔ سمارٹ ہوم ٹیکنالوجی جیسے سمارٹ پلگ اور سمارٹ لائٹس آپ کو اپنے گھر کے آلات کو دور سے کنٹرول کرنے کی صلاحیت دیتی ہیں، جس سے آپ غیر ضروری بجلی کے استعمال کو روک سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے کچن کی لائٹ بند کی ہے یا نہیں، تو آپ اسے اپنے فون سے بند کر سکتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا قدم ہے جو بہت بڑی بچت میں بدل سکتا ہے۔

سمارٹ ہوم ٹیکنالوجی کا فائدہ

  • سمارٹ پلگ انسٹال کریں تاکہ آپ کچن کے آلات کو ریموٹلی کنٹرول کر سکیں۔ یہ نہ صرف بجلی کی بچت کرتا ہے بلکہ ذہنی سکون بھی دیتا ہے۔ میں نے اپنے گھر میں سمارٹ پلگ لگا کر اپنے کافی میکر کو شیڈول کیا ہوا ہے۔
  • سمارٹ لائٹنگ سسٹم لگائیں جو دن کے وقت روشنی کی شدت کو خود بخود ایڈجسٹ کر سکے یا موشن سینسرز کے ساتھ کام کرے تاکہ جب کچن میں کوئی نہ ہو تو لائٹس خود بند ہو جائیں۔

عادات میں تبدیلی: ایک اہم جز

  • بجلی بچانے والی عادات کو اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنائیں۔ جیسے کھانا پکانے سے پہلے سبزیاں کاٹ کر تیار رکھیں تاکہ چولہا یا اوون کم وقت کے لیے چلے۔
  • فریج کا دروازہ کھولنے سے پہلے سوچ لیں کہ آپ کو کیا نکالنا ہے، اور اسے جلدی سے کھول کر بند کریں۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادات مل کر بڑی بچت کرتی ہیں۔ میں نے یہ خود آزمایا ہے اور یہ واقعی کام کرتا ہے۔

کچن میں کھانے کی تیاری اور توانائی کی بچت

کھانا پکانے سے پہلے کی تیاری بھی بجلی بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر ہم عام طور پر توجہ نہیں دیتے۔ جب میں نے یہ عادت اپنائی تو مجھے خود محسوس ہوا کہ میں کتنی بجلی بچا سکتی ہوں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کو کوئی منجمد چیز پکانی ہے، تو اسے پہلے فریزر سے نکال کر فریج میں منتقل کر دیں۔ اس سے وہ دھیرے دھیرے ڈیفروسٹ ہو جائے گی اور آپ کو مائیکروویو یا گرم پانی استعمال نہیں کرنا پڑے گا، جو بجلی استعمال کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، سبزیاں اور دیگر اجزاء پہلے سے تیار کر کے رکھنے سے کھانا پکانے کا وقت کم ہو جاتا ہے اور اس طرح چولہے یا اوون کا استعمال بھی کم ہوتا ہے۔ یہ صرف بجلی کی بچت نہیں بلکہ آپ کے وقت کی بھی بچت ہے۔

منجمد خوراک کا ذہین انتظام

  • منجمد گوشت یا سبزیوں کو پکانے سے کافی پہلے فریزر سے نکال کر فریج میں منتقل کر دیں۔ یہ انہیں آہستہ آہستہ ڈیفروسٹ کرے گا اور آپ کو توانائی استعمال کرنے والے آلات پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔
  • خوراک کو چھوٹے حصوں میں منجمد کریں تاکہ جب آپ کو ضرورت ہو تو صرف اتنی ہی مقدار نکالیں اور اسے ڈیفروسٹ کرنا آسان ہو۔ یہ انرجی اور وقت دونوں بچاتا ہے۔

پہلے سے تیاری کی طاقت

  • کھانا پکانے سے پہلے تمام اجزاء جیسے سبزیاں، گوشت وغیرہ کاٹ کر تیار رکھیں۔ اس سے آپ کا کھانا پکانے کا وقت کم ہو جائے گا اور آپ کو چولہا یا اوون زیادہ دیر تک چلانا نہیں پڑے گا۔
  • پریشر ککر کا استعمال کریں، خاص طور پر ان کھانوں کے لیے جو زیادہ وقت لیتے ہیں۔ یہ روایتی برتنوں کے مقابلے میں بہت تیزی سے کام کرتا ہے اور بجلی کی بھی کافی بچت کرتا ہے۔
Advertisement

توانائی بچانے والے آلات میں سرمایہ کاری: کیا یہ فائدہ مند ہے؟

بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ توانائی بچانے والے آلات مہنگے ہوتے ہیں اور انہیں خریدنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں، لیکن میرا تجربہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ میں نے کچھ عرصہ پہلے اپنی پرانی واشنگ مشین کو ایک انرجی ایفیشینٹ ماڈل سے بدلا اور یقین کریں، میرے بجلی کے بل میں واضح کمی آئی۔ آج کل کے دور میں جب بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، تو ایک بار کی سرمایہ کاری طویل مدت میں آپ کو بہت فائدہ دے سکتی ہے۔ ایسے آلات کی پہچان ان کی ریٹنگ سے ہوتی ہے جو اکثر سٹارز یا مخصوص لیبلز کی صورت میں ہوتی ہے۔ پانچ سٹار ریٹنگ والے آلات سب سے زیادہ توانائی بچانے والے ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف آپ کی جیب پر بوجھ کم کرتے ہیں بلکہ ہمارے ماحول کے لیے بھی اچھے ہیں۔

ماہرانہ انتخاب: کون سے آلات خریدیں؟

  • جب بھی کوئی نیا کچن اپلائنس خریدیں، تو اس کی انرجی ریٹنگ ضرور دیکھیں۔ زیادہ سٹارز والے آلات کا انتخاب کریں، اگرچہ وہ شروع میں تھوڑے مہنگے ہوں لیکن لمبی مدت میں وہ آپ کو بچت فراہم کریں گے۔
  • پرانے اور ناکارہ آلات کو تبدیل کرنے پر غور کریں۔ ایک پرانا فریج یا واشنگ مشین اتنی زیادہ بجلی استعمال کر سکتا ہے کہ نیا، توانائی بچانے والا ماڈل خریدنا زیادہ سمجھداری کی بات ہے۔

سرمایہ کاری کا طویل مدتی فائدہ

  • توانائی بچانے والے آلات میں سرمایہ کاری کو خرچ نہیں بلکہ ایک سرمایہ کاری سمجھیں۔ یہ آپ کو ہر ماہ بجلی کے بل میں کمی کی صورت میں واپس ملے گی۔
  • جدید ٹیکنالوجی والے آلات اکثر زیادہ پائیدار بھی ہوتے ہیں اور ان کی مرمت پر بھی کم خرچ آتا ہے، جس سے آپ کو دوہرا فائدہ ہوتا ہے۔
آلات بجلی بچانے کا طریقہ متوقع ماہانہ بچت (روپے میں)
ریفریجریٹر دروازہ کم کھولیں، گرم کھانا نہ رکھیں، سیلز چیک کریں 500 – 1000
اوون / چولہا پریشر ککر، ایک ساتھ کئی چیزیں پکائیں، پہلے سے گرم نہ کریں 300 – 800
گیزیٹر ضرورت کے وقت استعمال، ٹائمر کا استعمال، درمیانہ درجہ حرارت 700 – 1500
ایل ای ڈی لائٹس پرانے بلب بدلیں، قدرتی روشنی کا استعمال 200 – 500
چھوٹے آلات استعمال کے بعد پلگ نکالیں، صفائی کا خیال رکھیں 100 – 300

اختتامیہ

میرے پیارے دوستو، بجلی کی بچت صرف بڑے اقدامات سے نہیں ہوتی بلکہ ہماری چھوٹی چھوٹی عادتوں اور تھوڑی سی سمجھداری سے بھی ہوتی ہے۔ میں نے آپ کے ساتھ وہ سب طریقے شیئر کیے ہیں جو میں نے خود آزمائے ہیں اور جن سے میرے کچن کے بجلی کے بل میں واضح کمی آئی ہے۔ یہ صرف پیسے بچانے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے ماحول کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہے۔ کچن جو ہمارے گھر کا دل ہوتا ہے، وہاں کی گئی یہ تبدیلیاں نہ صرف آپ کے گھر کا بجٹ بہتر بنائیں گی بلکہ آپ کو ذہنی سکون بھی فراہم کریں گی کہ آپ ایک بہتر زندگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یاد رکھیں، ہر چھوٹی کوشش ایک بڑا فرق لا سکتی ہے۔

Advertisement

کام کی باتیں

1. اپنے ریفریجریٹر کو دیوار سے کم از کم 6 انچ دور رکھیں اور گرم کھانے کو ٹھنڈا کر کے ہی اس میں رکھیں۔ دروازہ بار بار کھولنے سے گریز کریں۔

2. کھانا پکانے کے لیے پریشر ککر کا استعمال کریں، خاص طور پر ان کھانوں کے لیے جو زیادہ وقت لیتے ہیں۔ اس سے وقت اور بجلی دونوں کی بچت ہوگی۔

3. ڈش واشر کو ہمیشہ پوری طرح بھر کر اور “ایکو موڈ” پر چلائیں تاکہ پانی اور بجلی دونوں کم استعمال ہوں۔

4. اپنے کچن کی تمام پرانی روشنیوں کو ایل ای ڈی (LED) لائٹس سے تبدیل کریں اور دن کے وقت قدرتی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔

5. تمام چھوٹے کچن آلات جیسے ٹوسٹر، بلینڈر وغیرہ استعمال کرنے کے بعد ان کے پلگ ضرور نکال دیں تاکہ “فینٹم لوڈ” سے بچا جا سکے۔

اہم نکات کا خلاصہ

کچن میں بجلی کی بچت کے لیے فریج کے صحیح استعمال، کھانا پکانے کے سمارٹ طریقوں، اور پانی کے آلات کی دیکھ بھال پر توجہ دینا ضروری ہے۔ گیزیٹر کو ضرورت کے مطابق استعمال کریں اور ڈش واشر کو پوری صلاحیت پر چلائیں۔ پرانے بلب کی جگہ ایل ای ڈی لائٹس کا انتخاب کریں اور چھوٹے آلات استعمال کے بعد ان پلگ ضرور کریں۔ جدید ٹیکنالوجی جیسے سمارٹ پلگ اور ٹائمر کا استعمال بھی مفید ہو سکتا ہے۔ توانائی بچانے والے آلات میں سرمایہ کاری طویل مدتی فوائد دیتی ہے۔ ان تمام اقدامات سے نہ صرف بجلی کے بل میں کمی آئے گی بلکہ ہمارے وسائل بھی محفوظ رہیں گے اور ماحول بھی بہتر ہوگا۔ یاد رکھیں، کچن کی چھوٹی تبدیلیاں آپ کے بڑے بل میں حیران کن کمی لا سکتی ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: ہمارے کچن میں کون سے ایسے آلات ہیں جو سب سے زیادہ بجلی کھاتے ہیں اور ہم ان سے کیسے بچت کر سکتے ہیں؟

ج: ارے ہاں! یہ سوال تو ہر گھر میں پوچھا جاتا ہے۔ میرے اپنے تجربے کے مطابق، کچن میں سب سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات میں فریج، مائیکروویو، اور اوون شامل ہیں۔ فریج تو سارا دن چلتا ہے، اس لیے اسے سمجھداری سے استعمال کرنا بہت ضروری ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ اگر ہم فریج کو بار بار کھولیں گے تو وہ زیادہ بجلی کھینچے گا۔ اسے زیادہ دیر تک کھلا نہ چھوڑیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس کے دروازے کی ربڑ صحیح حالت میں ہو تاکہ ہوا باہر نہ نکلے۔ اس کے علاوہ، فریج کو دیوار سے تھوڑا دور رکھیں تاکہ پچھلی کوائلز کو ٹھنڈا ہونے کے لیے جگہ ملے، ورنہ وہ زیادہ لوڈ لے کر چلتا ہے۔ مائیکروویو کے حوالے سے میرا مشورہ ہے کہ اسے صرف گرم کرنے کے لیے استعمال کریں، لمبی کوکنگ کے لیے نہیں۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ لوگ چائے کا پانی بھی مائیکروویو میں گرم کرتے ہیں، حالانکہ کیتلی اس کام کے لیے زیادہ ایفیشنٹ ہے، اور ہاں، اتنی ہی پانی ابالیں جتنی ضرورت ہو۔ اوون کا استعمال کرتے وقت بھی کوشش کریں کہ اسے بار بار نہ کھولیں، اور جب کھانا تیار ہو جائے تو اوون بند کرنے سے کچھ دیر پہلے ہی اسے بند کر دیں کیونکہ باقی ماندہ گرمی میں بھی کھانا پک جاتا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں آپ کے بل میں واقعی ایک بہت بڑا فرق لا سکتی ہیں، میں نے خود اپنے گھر میں ایسا کیا ہے اور نتائج دیکھ کر حیران رہ گئی ہوں۔

Advertisement

س: بغیر کسی بڑی سرمایہ کاری کے، کچن میں بجلی بچانے کے لیے کون سی آسان اور فوری عادات اپنائی جا سکتی ہیں؟

ج: یہ بالکل وہ سوال ہے جو میری طرح ہر پاکستانی خاتون پوچھتی ہے! مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہمارے بجلی کے بل بہت زیادہ آنے لگے تو میں نے سوچا کہ کیا بغیر پیسے خرچ کیے بھی کوئی بچت ہو سکتی ہے؟ اور یقین کریں، میں نے کچھ ایسی عادات اپنائیں جن سے واقعی فائدہ ہوا۔ سب سے پہلے، جب آپ کوئی بھی اپلائنس استعمال نہ کر رہے ہوں تو اسے پلگ سے نکال دیں۔ اسے سٹینڈ بائی موڈ میں چھوڑنا بھی تھوڑی بہت بجلی کھاتا ہے جسے “فینٹم لوڈ” کہتے ہیں، اور تھوڑا تھوڑا کر کے یہ کافی ہو جاتا ہے۔ میں نے خود اپنی ٹوسٹر اور بلینڈر کو استعمال کے بعد ہمیشہ پلگ سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ دوسرا، دن کے وقت کچن میں قدرتی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ پردے کھول دیں تاکہ روشنی اندر آ سکے، اور اگر ممکن ہو تو کھڑکیاں بھی کھول دیں تاکہ ہوا کا قدرتی بہاؤ رہے۔ اس سے نہ صرف بجلی کی بچت ہوگی بلکہ آپ کا کچن بھی تازہ دم رہے گا۔ تیسرا، کھانا پکاتے وقت ہمیشہ ڈھکن کا استعمال کریں۔ یہ ایک چھوٹی سی ٹپ ہے لیکن اس سے کھانا جلدی پکتا ہے اور توانائی کم استعمال ہوتی ہے۔ میرے گھر میں سب نے اس بات کو اپنایا ہے اور واقعی فرق محسوس کیا ہے۔ آخر میں، یہ بھی یاد رکھیں کہ برف جمی ہوئی خوراک کو فریج سے نکال کر کمرے کے درجہ حرارت پر پگھلنے دیں۔ مائیکروویو میں اسے پگھلانے سے بھی بجلی کا اضافی استعمال ہوتا ہے۔ یہ تمام عادات آپ کو فوری اور سستی بچت فراہم کریں گی، بالکل میرے اپنے تجربے کی طرح!

Advertisement

س: کیا جدید ٹیکنالوجی یا سمارٹ گیجٹس کچن میں بجلی بچانے میں ہماری مدد کر سکتے ہیں، اور کیا یہ خریدنا فائدہ مند ہے؟

ج: بالکل! آج کل کے دور میں ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی بہت آسان کر دی ہے، اور بجلی کی بچت کے معاملے میں بھی یہ پیچھے نہیں۔ میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ اگرچہ جدید آلات میں تھوڑی سی سرمایہ کاری ضرور ہوتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ ہمارے بجلی کے بلوں میں کافی کمی لا کر اس کے پیسے پورے کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، انرجی ایفیشنٹ آلات جن پر اسٹار ریٹنگ لکھی ہوتی ہے، جیسے کہ جدید فریج اور ڈش واشر، یہ روایتی آلات کے مقابلے میں بہت کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔ شروع میں تھوڑے مہنگے ضرور لگتے ہیں، مگر سوچیں جب ہر مہینے آپ کا بل کم آئے گا تو وہ پیسے آپ کو واپس مل جائیں گے۔ میں نے خود اپنے لیے ایک نیا فریج لیا ہے جو انرجی سٹار ریٹنگ والا تھا، اور یقین کریں، بل میں واضح فرق آیا ہے۔ اس کے علاوہ، سمارٹ پلگ (Smart Plugs) بھی ایک بہترین آپشن ہیں۔ یہ آپ کو اپنے آلات کو دور سے کنٹرول کرنے کی اجازت دیتے ہیں، مطلب اگر آپ نے گھر سے نکلتے وقت کسی اپلائنس کا سوئچ بند کرنا بھول گئے تو آپ اپنے فون سے ہی کر سکتے ہیں۔ اور ہاں، LED لائٹس کا تو ذکر ہی کیا!
کچن میں روایتی بلب کی جگہ LED لائٹس لگائیں، یہ بہت کم بجلی استعمال کرتی ہیں اور زیادہ روشنی دیتی ہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی تکنیکی تبدیلیاں ایک سمارٹ اور بجٹ فرینڈلی کچن بنانے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، اور میرے حساب سے یہ ایک سمجھداری کی سرمایہ کاری ہے۔

Advertisement