ارے میرے پیارے قارئین! کیا حال چال ہیں؟ مجھے معلوم ہے کہ آج کل ہر کوئی بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں اور توانائی کی بچت کے بارے میں پریشان ہے۔ میں خود بھی جب اپنا بجلی کا بل دیکھتا ہوں تو دل دہل جاتا ہے!
خاص طور پر باورچی خانے میں استعمال ہونے والے آلات، وہ تو جیسے ہمارے جیب پر بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ ہم خواتین کے لیے تو باورچی خانہ گویا دوسرا گھر ہوتا ہے اور وہاں توانائی کی بچت کے گر جاننا تو جیسے آج کی سب سے اہم ضرورت بن چکی ہے۔سوچیں ذرا، اگر ہم اپنے کھانا پکانے کے طریقوں میں تھوڑی سی تبدیلی لے آئیں اور ایسے آلات استعمال کریں جو کم بجلی کھائیں، تو کتنا فرق پڑ سکتا ہے!
مجھے یاد ہے کہ پچھلے سال جب میں نے اپنے پرانے اوون کو ایک نئے، توانائی بچت والے ماڈل سے بدلا تو واقعی بجلی کے بل میں نمایاں کمی محسوس کی۔ یہ صرف ایک آلے کی بات نہیں، ہر چھوٹی چھوٹی چیز میٹر کرتی ہے۔ اس مہنگائی کے دور میں جب پاکستان میں توانائی کا بحران بھی عروج پر ہے، ایسے میں ہم سب کو مل کر یہ قدم اٹھانا ہوگا۔میں نے حال ہی میں کچھ نئی تحقیق اور مختلف کچن آلات کا موازنہ کیا ہے تاکہ آپ کو بتا سکوں کہ کون سا آلہ آپ کے لیے بہترین ہے اور کیسے آپ اپنے خرچے کم کر سکتے ہیں۔ میرا تجربہ اور جو معلومات میں نے جمع کی ہیں، وہ یقیناً آپ کے کام آئیں گی۔ تو چلیں، آج اسی اہم مسئلے پر بات کرتے ہیں کہ ہم اپنے گھروں اور جیبوں پر بوجھ کم کرنے کے لیے کون سے توانائی بچت والے آلات استعمال کر سکتے ہیں۔ بالکل درست اور پکی پکی معلومات کے ساتھ، میں آج آپ کو اس بارے میں یقینی طور پر بتاؤں گا۔
پہلا اہم قدم: کھانا پکانے کے طریقے اور آلات کی ذہانت سے انتخاب

مجھے پتا ہے کہ ہم میں سے اکثر خواتین کے لیے کھانا پکانا روزمرہ کا اہم کام ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کھانا کس طریقے سے پکا رہی ہیں اور کون سے آلات استعمال کر رہی ہیں، اس کا آپ کے بجلی کے بل پر کتنا اثر پڑتا ہے؟ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار اپنے بجلی کے بل میں ہوشربا اضافہ دیکھا تو میں نے فوراً باورچی خانے کے آلات پر غور کرنا شروع کیا۔ ہم پاکستانی گھروں میں آج بھی گیس چولہے کا استعمال عام ہے، لیکن جب بات آتی ہے بجلی سے چلنے والے آلات کی، تو انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا پڑتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ ایک ہی ڈش کو مختلف طریقوں سے پکانے میں توانائی کا فرق کتنا زیادہ ہو سکتا ہے۔ فرض کریں آپ کو ایک کٹورا دال گرم کرنی ہے، اگر آپ مائیکرو ویو اوون استعمال کریں تو یہ منٹوں میں ہو جائے گی اور کم بجلی استعمال کرے گی، اس کے برعکس اگر آپ وہی دال کسی بڑے برتن میں چولہے پر گرم کریں تو وقت بھی زیادہ لگے گا اور توانائی بھی۔ میرا ماننا ہے کہ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے چھوٹے اور کم بجلی استعمال کرنے والے آلات کا انتخاب ہمیں ایک بڑی بچت کی طرف لے جا سکتا ہے۔ یہ صرف پیسے بچانے کی بات نہیں، یہ ہمارے ماحول کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہے۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی ایک بڑی اوون صرف ایک ٹوسٹ گرم کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟ یا کیا ہماری ضرورت کے مطابق اس سے کم بجلی استعمال کرنے والا کوئی متبادل موجود ہے؟
باورچی خانے کے چھوٹے آلات کا بہترین استعمال
مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ چھوٹے آلات ہی اکثر وہ جگہیں ہوتی ہیں جہاں ہم بغیر سوچے سمجھے بجلی ضائع کر دیتے ہیں۔ مائیکرو ویو اوون کو صرف اس وقت استعمال کریں جب واقعی ضرورت ہو، جیسے چھوٹی چیزیں گرم کرنا۔ یہ بڑے اوون کے مقابلے میں بہت کم وقت اور بجلی لیتا ہے۔ میں نے تو اپنے تجربے سے سیکھا ہے کہ کیتلی میں صرف اتنا ہی پانی گرم کرو جتنا چاہیے، زیادہ پانی گرم کرنے میں زیادہ بجلی لگتی ہے اور وہ پھر ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو ضائع۔
روایتی بمقابلہ جدید کھانا پکانے کے طریقے
پرانے زمانے میں ہم صرف چولہے پر کھانا بناتے تھے، لیکن اب ہمارے پاس بہت سارے آپشنز ہیں! کبھی کبھار مجھے لگتا ہے کہ ہم عادت کی وجہ سے ہی زیادہ بجلی استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ انڈکشن چولہے، ایئر فرائیرز، اور سست کوکر (Slow Cookers) جیسے جدید آلات صرف وقت ہی نہیں بچاتے بلکہ بجلی بھی کم لیتے ہیں۔ میں خود حیران رہ گئی تھی جب میں نے اپنے گیس چولہے کے مقابلے میں انڈکشن کو استعمال کرنا شروع کیا اور بجلی کے بل میں کمی دیکھی۔ یہ سب آپ کے استعمال اور ضرورت پر منحصر ہے۔
جدید اور توانائی بچت والے کوکنگ رینجز
کچھ سال پہلے تک ہمارے باورچی خانے میں صرف پرانے طرز کے گیس یا بجلی کے چولہے ہی ہوتے تھے، لیکن اب ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کر لی ہے۔ میں نے خود اپنے لیے ایک انڈکشن چولہا لیا تھا اور مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اس نے میرے بجلی کے بل میں کافی فرق ڈالا ہے۔ انڈکشن چولہے صرف برتن کو گرم کرتے ہیں اور حرارت کا ضیاع بہت کم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ روایتی بجلی کے چولہوں سے کہیں زیادہ کارآمد ہیں۔ اسی طرح، ایئر فرائیرز بھی ایک بہترین متبادل ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو تیل کے بغیر کھانا پکانا چاہتے ہیں اور بجلی بھی کم استعمال ہو!
یہ بالکل ایسا ہے جیسے آپ اپنی صحت اور اپنی جیب دونوں کی حفاظت کر رہے ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ میری بھابھی ہمیشہ شکایت کرتی تھیں کہ ان کے گھر میں بجلی کا بل بہت زیادہ آتا ہے کیونکہ وہ روزانہ شام کو چپس یا سموسے فرائی کرتی ہیں۔ میں نے انہیں ایئر فرائیر لینے کا مشورہ دیا اور اب وہ بہت خوش ہیں کہ ایک تو ان کی فرائنگ کی عادت بھی پوری ہو جاتی ہے اور دوسرا بجلی کا بل بھی کم آتا ہے۔ یہ سب باتیں میرے اپنے تجربات اور مشاہدات پر مبنی ہیں۔
انڈکشن چولہے: ایک بہترین انتخاب
اگر آپ نے ابھی تک انڈکشن چولہا استعمال نہیں کیا تو میرا مشورہ ہے کہ ایک بار ضرور آزمائیں۔ اس کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ بہت تیزی سے کھانا پکاتا ہے اور حرارت صرف برتن میں جاتی ہے، جس سے توانائی کی بچت ہوتی ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ اس پر دال پکانے میں بہت کم وقت لگتا ہے اور بجلی بھی کم استعمال ہوتی ہے۔
ایئر فرائیرز اور ان کی افادیت
ایئر فرائیرز صرف صحت کے لیے ہی نہیں بلکہ توانائی کی بچت کے لیے بھی لاجواب ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ خاص طور پر ہمارے پاکستانی گھروں کے لیے بنے ہیں جہاں تلی ہوئی چیزیں بہت شوق سے کھائی جاتی ہیں۔ اس سے آپ کم تیل میں مزے دار چیزیں بنا سکتے ہیں اور بجلی بھی مائیکرو ویو یا اوون کے مقابلے میں کم خرچ ہوتی ہے۔ میری دوست نے تو بتایا تھا کہ اس کے بچے اب ہر فرائی چیز ایئر فرائیر میں ہی بنواتے ہیں کیونکہ اس کا ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور صحت مند بھی رہتا ہے۔
سستے اور مفید برقی آلات کا انتخاب
مجھے پتا ہے کہ نئے آلات خریدنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا، خاص طور پر اس مہنگائی کے دور میں۔ لیکن اگر آپ کوئی نیا آلہ خریدنے کا سوچ رہے ہیں، تو یہ ضرور دیکھیں کہ اس کی توانائی کی درجہ بندی کیا ہے۔ آج کل زیادہ تر آلات پر ان کی توانائی کی کارکردگی (Energy Efficiency) کی ریٹنگ لکھی ہوتی ہے، جسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کتنی بجلی استعمال کرے گا۔ میرا تجربہ ہے کہ شروع میں تھوڑا زیادہ خرچ کرکے ایک توانائی بچت والا آلہ خریدنا لمبے عرصے میں آپ کو بہت فائدہ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک عام ٹوسٹر کی جگہ ایک گرل ٹوسٹر کا انتخاب، جو ایک وقت میں زیادہ کام کر سکے اور کم بجلی کھائے، ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، ایک بڑا بلینڈر لینے کے بجائے، جو صرف چند کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے، ایک ہینڈ بلینڈر یا ایک چھوٹا فوڈ پروسیسر لے سکتے ہیں جو زیادہ ورسٹائل ہو اور کم توانائی استعمال کرے۔ جب میں بازار جاتی ہوں اور کوئی نیا آلہ دیکھتی ہوں، تو میری پہلی نظر اس کی ریٹنگ پر ہوتی ہے، کیونکہ اس سے مجھے پتا چلتا ہے کہ یہ میری جیب پر کتنا بوجھ ڈالے گا۔ یہ ایک چھوٹی سی تفصیل ہے، لیکن اس کا اثر بہت بڑا ہوتا ہے۔
توانائی بچت لیبلز کو سمجھنا
جب آپ نیا آلہ خریدیں تو انرجی سٹار (Energy Star) جیسے لیبلز کو ضرور دیکھیں۔ یہ آپ کو بتاتے ہیں کہ کون سا آلہ کم بجلی استعمال کرتا ہے۔ میں نے خود جب اپنا نیا فریج لیا تو اس کی انرجی ریٹنگ سب سے پہلے دیکھی تھی، اور واقعی اس نے میرے بل میں فرق ڈالا ہے۔
دستی اور کم بجلی استعمال کرنے والے آلات
ہمیشہ ہر کام کے لیے بجلی کے آلات استعمال کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات دستی جوسر یا بلینڈر بھی کام چلا سکتے ہیں، اور ان میں بالکل بجلی استعمال نہیں ہوتی۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں ہی تو ہیں جو ہمیں بڑی بچت کی طرف لے جاتی ہیں۔
ریفریجریٹر اور فریزر کا صحیح استعمال
مجھے معلوم ہے کہ ریفریجریٹر ہمارے باورچی خانے کا ایک لازمی حصہ ہے، اور یہ چوبیس گھنٹے چلتا رہتا ہے۔ اس لیے اس کی توانائی کی بچت سب سے اہم ہے۔ میں نے خود اپنے گھر میں دیکھا ہے کہ ریفریجریٹر کا دروازہ بار بار کھولنے سے کتنی زیادہ ٹھنڈک باہر نکلتی ہے اور پھر کمپریسر کو دوبارہ اتنی ہی بجلی استعمال کرنی پڑتی ہے اسے ٹھنڈا کرنے کے لیے۔ اس لیے میری آپ سب سے درخواست ہے کہ ریفریجریٹر کا دروازہ کم سے کم کھولیں اور کوشش کریں کہ جو بھی چیز نکالنی ہو، ایک ہی بار میں نکال لیں۔ اس کے علاوہ، ریفریجریٹر کو دیوار سے تھوڑا دور رکھیں تاکہ اس کے پیچھے سے ہوا کا گزر اچھا ہو سکے، ورنہ کمپریسر کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور بجلی بھی زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ میرے تجربے میں، ریفریجریٹر کو زیادہ بھرنے سے بھی اس کی کارکردگی پر اثر پڑتا ہے، کیونکہ ہوا کا مناسب بہاؤ نہیں ہو پاتا اور اسے ٹھنڈک برقرار رکھنے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگر آپ کا ریفریجریٹر پرانا ہے، تو ہو سکتا ہے کہ وہ زیادہ بجلی استعمال کر رہا ہو، ایسے میں نئے اور توانائی بچت والے ماڈل پر غور کرنا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہو سکتا ہے۔ اس سے آپ کو ماہانہ بجلی کے بل میں واقعی ایک بڑی بچت نظر آئے گی۔
دروازہ بند رکھو، بجلی بچاؤ
یہ سب سے سادہ اور سب سے مؤثر ٹپ ہے۔ ریفریجریٹر کا دروازہ جتنا کم کھلے گا، اتنی ہی ٹھنڈک اندر رہے گی اور کمپریسر کو کم کام کرنا پڑے گا۔ میں نے خود یہ عادت ڈالی ہے کہ کھانے پینے کی چیزیں نکالنے سے پہلے ہی سوچ لیتی ہوں کہ کیا کیا چاہیے تاکہ بار بار دروازہ نہ کھولنا پڑے۔
صفائی اور سیٹنگ کا خیال
اپنے فریج کے کوائلز (coils) کو باقاعدگی سے صاف کریں۔ گندگی جمنے سے فریج کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور بجلی بھی زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح، تھرموسٹیٹ کو مناسب درجہ حرارت پر سیٹ کریں، بہت زیادہ ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سردیوں میں تو میں نے خود اپنے فریج کا درجہ حرارت تھوڑا کم کر دیا تھا اور بل میں فرق محسوس کیا۔
پرانے آلات کی دیکھ بھال اور نئے کا انتخاب
یار، مجھے تو یاد ہے کہ ہمارے گھر میں پرانے فریج اور اوون برسوں چلتے تھے، اور ہم کبھی سوچتے بھی نہیں تھے کہ ان کی وجہ سے بجلی کا بل کتنا بڑھ رہا ہے۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ پرانے آلات وقت کے ساتھ ساتھ اپنی کارکردگی کھو دیتے ہیں اور زیادہ بجلی استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک پرانی گاڑی زیادہ پٹرول کھاتی ہے۔ اس لیے، اپنے پرانے آلات کی باقاعدہ دیکھ بھال بہت ضروری ہے۔ فریج کی ربڑ سیلز چیک کرتے رہیں کہ کہیں سے ہوا تو نہیں نکل رہی، اوون کے دروازے کو اچھی طرح بند ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر آپ کا کوئی آلہ بہت پرانا ہو چکا ہے اور اکثر خراب ہوتا رہتا ہے، تو میری مانیں، اسے بدلنے میں ہی عافیت ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میری والدہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ “نیا لو تو سستا پڑے گا”، اس وقت مجھے سمجھ نہیں آتی تھی، لیکن اب جب بجلی کے بل دیکھتی ہوں تو ان کی بات سچ لگتی ہے۔ ایک نیا، توانائی بچت والا آلہ خریدنا شاید شروع میں بھاری لگے، لیکن یہ ہر ماہ آپ کو بجلی کے بل میں ایک اچھی خاصی رقم بچا کر دے گا، اور آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ ایک بہترین سرمایہ کاری تھی۔
باقاعدہ دیکھ بھال کا جادو
اپنے آلات کی دیکھ بھال کرنا بہت ضروری ہے۔ فریج کی ربڑ سیلز کی چیکنگ، اوون کے دروازے کی سیلز، اور دیگر چھوٹے موٹے مسائل پر فوری توجہ دینا بجلی کی بچت میں مدد کرتا ہے۔ میں تو ہر 6 ماہ بعد اپنے فریج کی سروس کرواتی ہوں، اس سے ایک تو اس کی کارکردگی بہتر رہتی ہے اور دوسرا بجلی کا خرچہ بھی قابو میں رہتا ہے۔
تبدیلی کا وقت کب ہے؟

اگر آپ کا کوئی آلہ بہت پرانا ہو گیا ہے اور اکثر خراب رہتا ہے، تو ہو سکتا ہے کہ اب اسے تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہو۔ پرانے آلات اکثر نئے ماڈلز کے مقابلے میں بہت زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ شروع میں نئی چیز خریدنا مشکل لگ سکتا ہے، لیکن لانگ ٹرم میں یہ آپ کو پیسوں کی بچت ہی کرواتا ہے۔
پانی گرم کرنے کے طریقے اور اس میں بچت
پانی گرم کرنا بھی ایک ایسا عمل ہے جو کافی بجلی خرچ کر سکتا ہے، خاص طور پر سردیوں میں جب ہم سب گرم پانی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم پہلے بڑے ہیٹر پر پانی گرم کرتے تھے اور اس کا بل دیکھ کر سر پکڑ لیتے تھے۔ اب میں نے ایک چھوٹی الیکٹرک کیٹل لی ہے اور میں صرف اتنا ہی پانی گرم کرتی ہوں جتنی ضرورت ہو، اس سے بہت فرق پڑا ہے۔ مجھے یہ بھی تجربہ ہے کہ اگر آپ پانی کو مسلسل گرم رکھتے ہیں تو وہ بہت زیادہ توانائی استعمال کرتا ہے۔ اس کے بجائے، جب ضرورت ہو تب ہی پانی گرم کریں۔ اگر آپ کے پاس گیس ہیٹر ہے تو اسے استعمال کریں، لیکن اگر بجلی کا ہیٹر ہے، تو اس کے تھرموسٹیٹ کو صحیح طریقے سے سیٹ کریں تاکہ وہ زیادہ گرمی پیدا نہ کرے اور توانائی ضائع نہ ہو۔ اگر آپ کا گھر بڑا ہے اور آپ کو زیادہ گرم پانی کی ضرورت ہوتی ہے، تو ایک ٹینک لیس واٹر ہیٹر (Tankless Water Heater) پر غور کر سکتے ہیں، جو صرف ضرورت پڑنے پر پانی گرم کرتا ہے اور توانائی کی بچت کرتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے طریقے ہیں جو ہمیں بڑی بچت کی طرف لے جاتے ہیں۔
الیکٹرک کیٹل کا سمجھداری سے استعمال
الیکٹرک کیٹل بہت آسان ہوتی ہے، لیکن اسے بھی سمجھداری سے استعمال کرنا چاہیے۔ صرف اتنا پانی گرم کریں جتنا چاہیے، زیادہ پانی گرم کر کے ضائع نہ کریں۔ میں خود صرف ایک یا دو کپ کے حساب سے ہی پانی گرم کرتی ہوں جب چائے بنانی ہو۔
پانی گرم کرنے کے متبادل طریقے
اگر آپ کے پاس گیس کی سہولت ہے تو گیس ہیٹر کا استعمال بجلی کے مقابلے میں سستا پڑ سکتا ہے۔ اگر آپ بجلی پر ہی منحصر ہیں تو ٹینک لیس واٹر ہیٹر (جو صرف ضرورت پڑنے پر پانی گرم کرتا ہے) ایک بہترین آپشن ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میری ایک کزن نے اپنے گھر میں ٹینک لیس ہیٹر لگوایا تھا اور اس کا بجلی کا بل واقعی بہت کم ہو گیا تھا۔
باورچی خانے کی روشنی اور دیگر چھوٹے آلات
بات صرف بڑے آلات کی نہیں، باورچی خانے میں استعمال ہونے والے چھوٹے چھوٹے آلات اور روشنی بھی توانائی کی بچت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میرے پرانے باورچی خانے میں عام بلب لگے تھے جو بہت زیادہ بجلی کھاتے تھے، لیکن جب میں نے انہیں ایل ای ڈی (LED) بلب سے تبدیل کیا تو واقعی روشنی بھی بہتر ہوئی اور بجلی کا بل بھی کم آیا۔ یہ ایک چھوٹی سی تبدیلی ہے لیکن اس کا اثر بہت نمایاں ہوتا ہے۔ اسی طرح، مکسر، جوسر، ٹوسٹر جیسے چھوٹے آلات کو صرف ضرورت کے وقت استعمال کریں اور استعمال کے فوراً بعد انہیں سوئچ آف کر دیں۔ اکثر لوگ آلات کو پلگ میں لگا رہنے دیتے ہیں، جس سے سٹینڈ بائی موڈ (Standby Mode) میں بھی بجلی خرچ ہوتی رہتی ہے، جسے “فینٹم لوڈ” (Phantom Load) کہتے ہیں۔ مجھے پتا ہے کہ کبھی کبھی ہم بھول جاتے ہیں، لیکن یہ چھوٹی سی عادت اپنا کر ہم ماہانہ کچھ نہ کچھ بچت ضرور کر سکتے ہیں۔ یہ سب میری اپنی روزمرہ کی زندگی کے تجربات ہیں جو میں آپ کے ساتھ شیئر کر رہی ہوں تاکہ آپ بھی ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ایل ای ڈی (LED) بلب کا استعمال
ایل ای ڈی بلب نہ صرف کم بجلی کھاتے ہیں بلکہ زیادہ روشنی بھی دیتے ہیں اور ان کی عمر بھی زیادہ ہوتی ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ ایک بار کی سرمایہ کاری ہے جو آپ کو بار بار فائدہ دیتی ہے۔ میں نے اپنے پورے گھر کی لائٹیں ایل ای ڈی سے تبدیل کروا دی ہیں اور بجلی کے بل میں واضح فرق دیکھا ہے۔
“فینٹم لوڈ” سے بچاؤ
مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی تھی کہ آلات اگر بند بھی ہوں اور پلگ میں لگے ہوں تو وہ بجلی کھاتے رہتے ہیں۔ اسے “فینٹم لوڈ” کہتے ہیں۔ اس لیے استعمال کے بعد آلات کو سوئچ سے بھی بند کر دیں یا پلگ نکال دیں۔ یہ ایک بہت چھوٹی سی عادت ہے لیکن ماہانہ بنیادوں پر اچھی خاصی بچت کروا سکتی ہے۔
توانائی بچت کے جدید ٹولز اور سمارٹ کچن
آج کل تو ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر گئی ہے کہ ہمارے باورچی خانے بھی سمارٹ ہو گئے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے پہلی بار سمارٹ پلگ (Smart Plug) کا استعمال کیا تھا تو مجھے لگا تھا کہ یہ صرف فیشن ہے، لیکن یہ تو واقعی بہت کارآمد نکلا۔ آپ اپنے موبائل فون سے ہی کسی بھی آلے کو آن یا آف کر سکتے ہیں، اور آپ اس کی توانائی کی کھپت بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو کبھی کبھی بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے کوئی آلہ بند کیا ہے یا نہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ہمارے باورچی خانے میں کتنے آلات سٹینڈ بائی موڈ میں بھی بجلی کھا رہے تھے۔ اسی طرح، کچھ جدید اوون اور مائیکرو ویو اوون بھی سمارٹ فیچرز کے ساتھ آتے ہیں جو توانائی کی بچت میں مدد کرتے ہیں۔ وہ خود بخود کھانے کی مقدار کے مطابق پکانے کا وقت اور درجہ حرارت ایڈجسٹ کر لیتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے آپ کا باورچی خانہ آپ کی جیب کا خیال رکھ رہا ہو۔ مجھے یہ سمارٹ ٹیکنالوجی بہت پسند ہے کیونکہ یہ ہماری زندگی کو آسان بناتی ہے اور پیسے بھی بچاتی ہے۔
سمارٹ پلگ: آپ کا چھوٹا مددگار
سمارٹ پلگ آپ کے کسی بھی آلے کو سمارٹ بنا سکتے ہیں۔ آپ ان کے ذریعے آلات کو دور سے کنٹرول کر سکتے ہیں اور ان کی بجلی کی کھپت بھی دیکھ سکتے ہیں۔ میں نے تو اپنے موبائل چارجر اور کچھ چھوٹے آلات کے لیے سمارٹ پلگ استعمال کیے ہیں تاکہ فینٹم لوڈ سے بچا جا سکے۔
باورچی خانے کے لیے جدید سمارٹ آلات
اب مارکیٹ میں ایسے سمارٹ اوون اور ریفریجریٹرز بھی آ چکے ہیں جو اپنی توانائی کی کھپت کو خود ہی بہتر بناتے ہیں۔ یہ تھوڑے مہنگے ضرور ہوتے ہیں، لیکن لمبے عرصے میں یہ آپ کو بجلی کے بل میں کافی بچت کروا سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ آپ کو آپ کی جیب پر بوجھ کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
| کھانا پکانے کا طریقہ | اوسطاً بجلی کی کھپت (واٹ) | اوسطاً پکانے کا وقت (مثال: دال) | فوائد | نقصانات |
|---|---|---|---|---|
| گیس چولہا | 0 (بجلی نہیں) | 25-30 منٹ | تیز، فوراً حرارت، بجلی کے بل سے آزادی | گیس کا خرچ، حرارت کا ضیاع، حفاظتی مسائل |
| الیکٹرک چولہا (روایتی) | 1500-2500 | 30-35 منٹ | استعمال میں آسان، صاف ستھرا | سست گرمی، زیادہ بجلی کی کھپت، حرارت کا ضیاع |
| انڈکشن چولہا | 1200-1800 | 15-20 منٹ | انتہائی تیز، توانائی کی بچت، محفوظ | خصوصی برتن درکار، ابتدائی لاگت زیادہ |
| مائیکرو ویو اوون | 800-1500 | 5-10 منٹ (گرم کرنے کے لیے) | تیز گرمی، چھوٹی مقدار کے لیے بہترین | بڑے کھانے کے لیے نہیں، پکانے کا معیار مختلف |
| ایئر فرائیر | 1200-1800 | 15-25 منٹ (چپس کے لیے) | کم تیل، صحت مند، تیز، اوون سے کم بجلی | چھوٹی مقدار، ابتدائی لاگت |
글 کو ختم کرتے ہوئے
آخر میں، مجھے امید ہے کہ میری یہ چھوٹی سی کاوش آپ کے باورچی خانے میں بجلی بچانے کے لیے کچھ نئی سوچ دے سکی ہوگی۔ میں نے خود اپنے گھر میں ان نکات پر عمل کرکے دیکھا ہے اور یقین مانیں، جب بجلی کا بل کم آتا ہے تو دل کو بہت سکون ملتا ہے۔ یہ صرف ایک بل کی بات نہیں، یہ ہمارے ماحول اور ہمارے ملک کی بھی مدد ہے۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ ہم سب مل کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر ایک بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، بچت کی یہ عادت آپ کی زندگی کو آسان اور زیادہ پرسکون بنا سکتی ہے۔
جاننے کے لیے مفید معلومات
1. جب بھی کوئی نیا آلہ خریدیں، اس کی انرجی ریٹنگ ضرور چیک کریں تاکہ آپ کو طویل مدت میں فائدہ ہو۔
2. چھوٹے کاموں کے لیے چھوٹے آلات استعمال کریں، جیسے دال گرم کرنے کے لیے مائیکرو ویو اوون، نہ کہ بڑا اوون۔
3. اپنے ریفریجریٹر کا دروازہ بار بار کھولنے سے گریز کریں اور اسے دیوار سے مناسب فاصلے پر رکھیں۔
4. آلات کو استعمال کے بعد سوئچ آف کر دیں یا پلگ نکال دیں تاکہ ‘فینٹم لوڈ’ سے بچا جا سکے۔
5. ایل ای ڈی (LED) بلب کا استعمال کریں، یہ نہ صرف بجلی بچاتے ہیں بلکہ زیادہ روشنی بھی دیتے ہیں۔
اہم نکات کا خلاصہ
ہمیشہ یاد رکھیں کہ باورچی خانے میں توانائی کی بچت صرف خرچے کم کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ہوشیار اور ماحول دوست طرز زندگی کی علامت ہے۔ نئے آلات کا انتخاب کرتے وقت توانائی کی کارکردگی کو ترجیح دیں، پرانے آلات کی مناسب دیکھ بھال کریں، اور اپنے روزمرہ کے استعمال میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لائیں۔ یہی وہ طریقے ہیں جو آپ کو حقیقی اور پائیدار بچت کی طرف لے جائیں گے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: کون سے کچن آلات سب سے زیادہ بجلی بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں؟
ج: دیکھیں، میرا اپنا تجربہ کہتا ہے کہ کچھ آلات ایسے ہیں جنہیں اگر ہم سمجھداری سے استعمال کریں تو واقعی بجلی کا بل کافی نیچے آ سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو میں انڈکشن کک ٹاپ (Induction Cooktop) کا ذکر کروں گی۔ جب میں نے اسے استعمال کرنا شروع کیا تو مجھے حیرت ہوئی کہ یہ گیس کے چولہے سے بھی زیادہ تیزی سے کھانا پکاتا ہے اور بجلی بھی بہت کم استعمال کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صرف برتن کو گرم کرتا ہے، ہوا کو نہیں۔ پھر آتا ہے ایئر فرائر (Air Fryer)، جو نہ صرف تیل کی بچت کرتا ہے بلکہ اوون کے مقابلے میں بہت کم بجلی لیتا ہے اور میرا دل خوش کر دیتا ہے جب کرسپی چیزیں جھٹ پٹ تیار ہو جاتی ہیں۔ میں نے پچھلے سال اپنے پرانے ریفریجریٹر کو انورٹر ٹیکنالوجی والے ریفریجریٹر سے بدلا تھا اور یقین مانیں، اس کے بعد سے بجلی کے بل میں ایک واضح کمی آئی ہے۔ یہ اس لیے کہ انورٹر کمپریسر مسلسل نہیں چلتا بلکہ ضرورت کے مطابق اپنی رفتار ایڈجسٹ کرتا ہے، جس سے توانائی کی بچت ہوتی ہے۔ مائیکروویو اوون (Microwave Oven) بھی چھوٹے موٹے کاموں جیسے کھانا گرم کرنا یا چائے بنانا، کے لیے روایتی چولہے یا اوون سے کہیں بہتر ہے کیونکہ یہ بہت کم وقت میں کام کر دیتا ہے اور اس طرح بجلی کی بچت ہوتی ہے۔ یہ میری ذاتی رائے اور تجربہ ہے کہ ان آلات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر آپ بہت آسانی سے اپنے اخراجات کنٹرول کر سکتے ہیں۔
س: کیا توانائی بچانے والے آلات کی ابتدائی قیمت زیادہ ہونے کے باوجود یہ واقعی فائدے مند ثابت ہوتے ہیں؟
ج: یہ سوال تو ہر کوئی پوچھتا ہے، اور پوچھنا چاہیے! جب میں نے بھی انرجی ایفیشنٹ آلات خریدنے کا سوچا تھا تو سب سے پہلے یہی خیال آیا تھا کہ اتنے مہنگے آلات لے کر کیا فائدہ ہو گا؟ لیکن میرا ذاتی تجربہ اور جو میں نے تحقیق کی ہے، وہ یہ بتاتی ہے کہ جی ہاں، بالکل!
ان کی ابتدائی قیمت تھوڑی زیادہ ضرور ہوتی ہے، لیکن لمبے عرصے میں یہ آپ کو بہت بڑا فائدہ دیتے ہیں۔ سوچیں ذرا، اگر ایک آلہ ہر ماہ آپ کے بجلی کے بل میں ایک ہزار روپے کی بچت کرتا ہے، تو ایک سال میں بارہ ہزار روپے بچ گئے۔ کچھ سالوں میں تو اس کی قیمت پوری ہو جائے گی اور اس کے بعد آپ خالص منافع میں ہوں گے۔ اس کے علاوہ، ان آلات کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور ان کی عمر بھی زیادہ ہوتی ہے، یعنی آپ کو بار بار مرمت یا تبدیلی کا خرچہ نہیں اٹھانا پڑتا۔ یہ نہ صرف آپ کی جیب پر مثبت اثر ڈالتے ہیں بلکہ ہمارے ماحول کے لیے بھی اچھے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ یہ ایک قسم کی سرمایہ کاری ہے جو آپ کی روزمرہ زندگی کو آسان بناتی ہے اور مستقبل میں آپ کو مالی تحفظ بھی فراہم کرتی ہے۔ لہٰذا، اگر آپ میری مانیں تو تھوڑا سا زیادہ خرچ کر کے ایک بار توانائی بچانے والے آلات میں سرمایہ کاری کرنا بہت ہی سمجھداری کا فیصلہ ہے۔
س: کھانا پکاتے وقت بجلی بچانے کے لیے کچھ آسان مگر مؤثر گھریلو ٹوٹکے کیا ہیں؟
ج: ہائے ری بجلی! میرا تو دل چاہتا ہے کہ میں کچھ ایسے جادوئی ٹوٹکے بتاؤں جو آپ کا بل دیکھتے ہی دیکھتے کم کر دیں! لیکن جادو تو نہیں، کچھ بہت ہی عملی اور آسان ٹپس ہیں جو میں نے خود آزمائے ہیں اور جن سے مجھے بہت فائدہ ہوا ہے۔
1.
پہلے سے منصوبہ بندی: کھانا پکانے سے پہلے تمام اجزاء تیار کر لیں تاکہ بار بار فریج کھولنے کی ضرورت نہ پڑے اور آلات کم وقت تک چلیں۔ فریج کو ضرورت سے زیادہ دیر کھلا رکھنا اس کی موٹر پر بوجھ بڑھاتا ہے، جس سے بجلی زیادہ خرچ ہوتی ہے۔
2.
صحیح برتن کا انتخاب: ہمیشہ اپنے چولہے کے سائز کے مطابق برتن استعمال کریں۔ چھوٹے برتن پر بڑا چولہا یا اس کے برعکس استعمال کرنے سے توانائی ضائع ہوتی ہے۔ ڈھکن والے برتن استعمال کریں، اس سے کھانا جلدی پکتا ہے اور گرمی باہر نہیں نکلتی۔
3.
گرم کھانا فریج میں نہ رکھیں: یہ بہت اہم ہے! میرا تجربہ ہے کہ جب ہم گرم کھانا فریج میں رکھ دیتے ہیں تو فریج کو اس کھانے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دوگنی محنت کرنی پڑتی ہے، جس سے بجلی کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ کھانے کو پہلے کچن میں ہی ٹھنڈا ہونے دیں، پھر فریج میں رکھیں۔
4.
اُوَن کو بار بار نہ کھولیں: جب آپ اوون میں کچھ پکا رہے ہوں تو بار بار دروازہ نہ کھولیں۔ ہر بار اوون کا دروازہ کھولنے سے اندر کا درجہ حرارت گر جاتا ہے اور اسے دوبارہ گرم ہونے میں زیادہ بجلی لگتی ہے۔
5.
کچن کی صفائی اور دیکھ بھال: اپنے آلات، خاص طور پر فریج کے کوائلز کو باقاعدگی سے صاف کریں۔ گندگی اور مٹی کوائلز کو گرم کرتی ہے اور فریج کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے، جس کا نتیجہ زیادہ بجلی کی کھپت کی صورت میں نکلتا ہے۔
یہ چھوٹے چھوٹے ٹوٹکے آپ کی زندگی میں بڑا فرق لا سکتے ہیں اور آپ کے بجلی کے بل کو قابو میں رکھنے میں مدد کریں گے۔ میری طرف سے آپ سب کے لیے بہت ساری دعائیں کہ اللہ آپ کے بل کم کرے۔






